سپریم کورٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے متنازعہ فیصلہ کو منسوخ کردیا _ جانئے کیا تھا ہائی کورٹ کا متنازعہ فیصلہ

ممبئی _  سپریم کورٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس متنازعہ فیصلہ کو منسوخ کردیا جس میں ہائی کورٹ کی سنگل رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ لباس پر سے لڑکی کے جسم کے اعضاء کو چھونا جنسی زیادتی کے دائرے میں نہیں آتا ۔اور ایسے کیس میں ملزم کے خلاف پوکسو قانون کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کی جج جسٹس پشپا کی جانب جاریہ سال جنوری میں دئے گئے متنازعہ فیصلہ کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کی اور اس فیصلہ کو کالعدم قراردیا۔

جاریہ سال جنوری میں ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے کہا تھا کہ لباس پر سے لڑکی کے جسم کے اعضاء کو چھونا جنسی ہراسانی کے دائرہ میں نہیں آتا۔اور ایسے کیس میں ملزم کے خلاف پوکسو قانون (بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے سے بچانے کے لئے ایک قانون) کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔ہائی کورٹ کی سنگل رکنی جج نے جنسی ہراسانی کے کیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب جلد سے جلد ملتی یا  لباس کے بغیر لڑکی کے جسم کے مخصوص اعضا کو چھویا جاتا ہے تو ایسے کیس کو جنسی زیادتی کہا جاتا ہے اور اس طرح کے کیس میں ملوث ملزم کے خلاف پوسکو قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے

 

ہائی کورٹ کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے سے متعلق دئے گئے اس فیصلہ نے نئی بجٹ چھیڑ دی تھی ۔ ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کی سنگل رکنی جج جسٹس پشپا نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ  لباس ( کپڑوں) پر سے  کسی لڑکی کے سینہ کو چھونا جنسی طور پر ہراساں کرنے کی ایک قسم نہیں ہے ، اور قانون نے بھی اسی بات کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی لڑکی کو  کپڑے نکال کر  یا لباس کے اندر اپنے ہاتھ سے براہ راست اس کو چھوتا ہے تو ، یہ جنسی ہراسانی کی تعریف میں آتا ہے۔اس کیس کی تفصیلات اس طرح تھی سال 2016 میں ایک 39 سالہ شخص پر 12 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔جس نے لڑکی کو ایک روم میں لے جا کر اس کے سینہ کو چھوتے ہوئے اس کی عصمت ریزی کی کوشش کی تھی ۔اس دوران لڑکی نے چینخ وپکار شروع کردی۔جس پر لڑکی کے گھر والے وہاں آگئے اور اسے بچا لیا۔اور اس شخص کو پولیس کے حوالے کردیا۔اس کیس کی تحقیقات کے بعد نچلی عدالت نے پوکسو ایکٹ کی دفعہ ‌ 8 (بچوں پر جنسی زیادتی) کے تحت ملزم کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی ۔اس فیصلے کو ہائی کورٹ نے  کالعدم کر دیا۔ اور تین سال سزا کو منسوخ کردیا تھا

لیکن گزشتہ روز سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قراردیا اور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج یو یو للت نے کہا کہ قانون میں پائے جانے والے لچک کے ذریعہ ایسے فیصلہ نہیں دینا چاہیے جس سے ملزم کو کیس سے بچنے کا مواقع فراہم ہوتا ہے