چائے اور کیلے کے کچرے کا استعمال غیر زہریلا سرگرم کاربن تیار کرنے کےلئے کیا گیا

نئی دہلی _ سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے غیر زہریلا سرگرم کاربن تیار کرنے کےلئے چائے اور کیلے کے کچرے کا استعمال کیا ہے، جو صنعتی آلودگی کنٹرول، پانی کی صفائی ، غذا اور مشروب پروسیسنگ اور بدبو دور کرنے جیسے متعدد مقاصد کے لئے سود مند ہے۔نیا فروغ شدہ عمل سرگرم کاربن کی تیاری کے لئے کسی بھی زہر پیدا کرنے والے اجزاء کے استعمال سے بچاتی ہے۔اس طرح مصنوعات کو کفایتی اور غیر زہریلا بنادیتاہے۔

چائے کی پروسیسنگ عام طورپر چائے کی دھول کی شکل میں ڈھیر سارا کچرا نکلتا ہے۔ اسے فائدے مند چیزوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔چائے کی تیاری اعلیٰ معیار والے سرگرم کاربن میں تبدیلی کےلئے فائدہ مند ہے۔حالانکہ سرگرم کاربن کی تبدیلی میں اہم ایسڈ اور بنیادی ڈھانچے کا استعمال شامل ہے، جس سے تیار شدہ مال زہریلا ہوجاتا ہے۔اس لئے زیادہ تر استعمال کے لئے اسے نامناسب سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ اس چیلنج سے نمٹنے کےلئے تبدیلی کے ایک غیر زہریلے طریقے کی ضرورت تھی۔

بھارت سرکار کے سائنس و ٹیکنالوجی محکمے کے ایک خود مختار ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈونسڈ اسٹڈی اِن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(آئی اے ایس ایس ٹی)، گوہاٹی  کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر این سی تعلقدار اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر دیواسیش چودھری نے چائے کے کچرے سے سرگرم کاربن تیار کرنے کےلئے ایک متبادل سرگرم ایجنٹ کی شکل میں کیلے کے پودے کے عرق کا استعمال کیا۔

کیلے کے پودے کے عرق میں موجود آکسیجن کے ساتھ ملنے والا پوٹاشیم عنصر چائے کے کچرے سے تیار کاربن کو سرگرم کرنے میں مدد کرتا ہے۔اس کے لئے حال ہی میں ایک بھارتی پیٹنٹ دیا گیا ہے۔

اس عمل میں استعمال کئے جانے والے کیلے کے پودے کا عرق روایتی طریقے سے تیار کیا گیا تھا اور اسے کھار کے نام سے جانا جاتا ہے، جو  جلے ہوئے سوکھے کیلے کے چھلکے کی راکھ سے حاصل ایک مادہ  عرق ہے۔ اس کے لئے سب سے پسندیدہ کیلے کو اسامی زبان میں ’بھیم کول‘کہا جاتاہے۔ بھیم کول کیلے کی ایک دیسی قسم ہے، جو صرف آسام اور شمال مشرق  بھارت کے کچھ حصوں میں پائی جاتی ہے۔کھار بنانے کے لئے سب سے پہلے کیلے کا چھلکا سکھایا جاتا ہے اور پھر اس کی راکھ بنانے کے لئے اسے جلاد یا جاتا ہے۔پھرراکھ کو ذرہ ذرہ کرکے ایک مہین پاؤڈر بنادیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک صاف سوکھی کپڑے سے راکھ کے چورن سے پانی کو چھان لیا جاتاہے اور آخر میں ہمیں جو گھول ملتا ہے، اسے کھار کہتے ہیں۔کیلے سے نکلنے والے قدرتی کھار کو ’کول کھار‘ یا ’کولا کھار‘کہا جاتاہے۔ اس عرق کا استعمال سرگرم  کرنے والے ایجنٹ کے طورپر کیا گیا۔

آئی اے ایس ایس ٹی   ٹیم بتاتی ہے’’سرگرم کاربن کی تیاری کے لئے ابتدائی مرحلے کی شکل میں چائے کے استعمال کا سبب یہی ہے کہ چائے کی تیاری میں کاربن کے ذرات مدغم ہوتے ہیں اور ان میں پالی پھینولز بانڈ ہوتا ہے۔یہ دیگر کاربن عناصر کے مقابلے سرگرم کاربن کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔’’

اس عمل کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ ابتدائی اشیاء ، ساتھ ہی سرگرم کرنے والے ایجنٹ دونوں ہی کچرا ہیں۔ تیار شدہ عمل میں سرگرم کاربن کو ملانے کےلئے کسی بھی زہریلے سرگرم کرنے والے ایجنٹ (جیسے زہریل ایسڈ اور بیس)کے استعمال سے بچا جاتا ہے۔ اس طرح یہ عمل پہلی بار سبز ہے۔پودوں کی اشیاء کو پہلی بار سرگرم کرنےو الے ایجنٹ کی شکل میں استعمال کیا گیا ہے۔سرگرم کاربن کی تیاری کا یہ نیا عمل مصنوعات کو کفایتی اور غیر زہریلا بناتاہے۔

پیٹنٹ تفصیل:چائے کے کچرے سے سرگرم کاربن تیار کرنے کا عمل، پیٹنٹ 377645۔

1.jpg

  1. چائے کے کچرے سے سرگرم کاربن تیار کرنے کی ترکیب

1.jpg

  1. کیلے کے پودے سے سرگرم کرنے والے ایجنٹ کی تیاری کی ترکیب