اسپشل اسٹوری

غربت کے درد کو اس لڑکی نے گانوں میں ڈھال دیا۔کمسن ثانیہ کے گانے سوشیل میڈیا پرمچا رہے ہیں دھوم

غربت کے درد کو اس لڑکی نے گانوں میں ڈھال دیا۔کمسن ثانیہ کے گانے سوشیل میڈیا پرمچا رہے ہیں دھوم

ممبئی _21 دسمبر ( اردو لیکس) ممبئی کے  شیواجی نگر علاقے میں ایک سلم بستی میں رہنے والی کمسن  لڑکی ثانیہ مستری کی  ان دنوں سوشل میڈیا پر کافی دھوم چل رہی ہے  یہ کمسن اپنے ریپ گانوں میں اپنی غربت اور مشکلات کی عکاسی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر سب کی توجہ مبذول کر رہی ہے۔ ثانیہ مستری اپنے والدین کے ساتھ ممبئی کے شیواجی نگر کی ایک تنگ گلی میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہے اس کے والد آٹو ڈرائیور  ہیں اور خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ ثانیہ کی عمر اس وقت 15 سال ہے۔ وہ امبیڈکر کالج میں انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ہے ۔ بچپن سے ہی کسی بھی شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانے کا خواب دیکھنے والی ثانیہ نے اپنے ریپ آرٹ کو عزت بخشی ہے۔

ریپ گانوں کے ذریعے اس نے دنیا کو سلم  آبادیوں میں رہنے والوں کی حالت زار کو بیان کیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کو پوسٹ کرنے سے اسے اچھی پہچان ملی ہے ۔ثانیہ نے بتایا کہ”میں نے اپنے خاندان کو درپیش مشکلات کے بارے میں گانے لکھے۔ میں فی الحال ریپ گانے گاتے ہوئے اپنی پڑھائی جاری رکھی ہوئی  ہوں۔ میں مستقبل میں بھی اسی طرح ریپ گانے گاتی   رہوں گی، ثانیہ مستری نے کہا کہ اس   کے فن کو پہچاننے والے کئی فلاحی اداروں نے انہیں موقع دیا ہے۔ ثانیہ فی الحال ان کمپنیوں کی جانب سے مختلف پروگراموں میں ریپ گانوں کو پیش کررہی ہے ۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button