اسپشل اسٹوری

ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون ماہر تعلیم فاطمہ شیخ کی آج 191 ویں یوم پیدائش

ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون ماہر تعلیم فاطمہ شیخ کی آج 191 ویں یوم پیدائش 

حیدرآباد _ 9 جنوری ( اردو لیکس ڈیسک) فاطمہ شیخ ایک ہندوستانی ماہر تعلیم تھیں،جن کا شمار ملک کی پہلی مسلم خاتون ماہر تعلیم میں ہوتا ہے سماجی جہدکار جیوتی با پھولے اور ساوتری بائی پھولے کی ساتھی تھیں۔ فاطمہ شیخ میاں عثمان شیخ کی بہن تھیں، جن کے گھر جیوتی با پھولے اور ساوتری بائی پھولے نے رہائش اختیار کی۔فاطمہ شیخ نے ان دونوں کے ساتھ مل کر لڑکیوں کے لئے اسکول شروع کیا تھا

آج فاطمہ شیخ کی آج 191 ویں یوم پیدائش ہے گوگل نے آج فاطمہ شیخ کی یوم پیدائش پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے اپنے ڈوڈل پر فاطمہ شیخ کی تصویر آپ لوڈ کی ہے

فاطمہ شیخ کون تھیں؟

فاطمہ شیخ  9 جنوری 1831 کو مہاراشٹر کے پونے میں پیدا ہوئیں۔فاطمہ شیخ ایک ہندوستانی معلمہ و مربیہ اور مشہور سماجی مصلح جیوتی راؤ پھلے اور ساوتری بائی پھلے کی ساتھی تھیں۔فاطمہ شیخ میاں عمر شیخ کی ہمشیرہ تھیں جن کے گھر میں جیوتی با اور ساوتری نے قیام کیا تھا۔ وہ جدید ہندوستان کی اولین مسلمان معلمات میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے پھلے کے اسکول میں دلت بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ جیوتی با اور ساوتری نے فاطمہ کے ساتھ مل کر نچلے طبقے میں تعلیم کو عام کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

فاطمہ شیخ اور ساوتری بائی نے عورتوں، نچلے اور دبے ہوئے طبقے کے لوگوں کو تعلیم دینا شروع کی تو ان کو مقامی افراد کی جانب سے دھمکیاں ملیں، ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ آیا وہ لوگوں کو پڑھانا چھوڑ دیں یا پھر گھر بدر ہو جائیں۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

ان کے اس عزم میں نہ تو ان کا خاندان اور نہ ہی قبیلہ ان کی مدد کو آگے آیا۔ دونوں نے اپنے لیے جائے پناہ تلاش کی اور دبے کچلے لوگوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ جائے پناہ تلاش کرتے ہوئے ان کو ایک مسلم شخص عثمان شیخ کا پتہ ملا جو پونہ کے گجن پیٹ علاقہ میں رہتے تھے۔ عثمان شیخ پھولے بہنوں کو اپنا گھر دینے پر راضی ہو گئے اور احاطہ میں ایک اسکول بھی کھول دیا۔ سنہ 1848ء میں عثمان شیخ اور ان کی بہن فاطمہ شیخ کے گھر میں ایک اسکول کھل گیا۔

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ اعلیٰ طبقے کے تقریباً تمام افراد ان دونوں کی اس حرکت سے ناراض تھے اور ان لوگوں نے سماجی طور پر پریشان کرکے ان کو روکنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن ایسے وقت میں فاطمہ شیخ آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوگئیں اور ساوتری بائی کی ہر ممکن مدد کی۔ فاطمہ شیخ نے بھی ساوتری کے ساتھ اسی اسکول میں پڑھانا شروع کیا۔ ان دونوں کو سگونہ بائی کا ساتھ ملا اور بعد میں چل کر تعلیمی میدان کی ایک اور رہنما ثابت ہوئیں۔ فاطمہ شیخ کے بھائی عثمان شیخ بھی اس تحریک سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے۔ اس دور کے دستاویزوں کے مطابق عثمان شیخ نے ہی فاطمہ شیخ کو تعلیمی میدان میں کام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

جب فاطمہ اور ساورتی نے جیوتی با کے اسکول میں جانا شروع کیا تو لوگ ان کو ستاتے تھے اور روکتے تھے۔ ان کو سنگسار تک کیا گیا اور گوبر آلود بھی کیا گیا۔( بشکریہ وکیپیڈیا)

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button