سہارنپورواقعہ،ندی میں پھینک دی گئی امام صاحب کی بیٹی نعش نکالنے میں کامیابی

گنٹور: آندھراپردش کی جس لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کرجنسی استحصال کے بعد دریائے یمنا میں پھینک دیا گیا تھا اس لڑکی کی نعش آج نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی گئی۔ واضح رہے کہ سہارنپورسے تعلق رکھنے والے واصف نے وجئے واڑہ سے تعلق رکھنے والے مسجد کے امام صاحب کی بیٹی کو شادی کا جھانسہ دے کراس کا اغوا کرلیا تھا۔ نوجوان نے لڑکی کا جنسی استحصال کیا اورپھراسے درئے یمنا میں دھکہ دے کراس کا قتل کردیا تھا۔ اس حرکت میں اس کا ایک دوست بھی مددگاربتایا گیا ہے۔ پولیس نے ان دونوں کو حراست میں لے لیا تھا اورلڑکی کی نعش کی تلاش جاری تھی۔ آج 24 سالہ لڑکی کی نعش ہتھنی کنڈ بیریج کے قریب ماہر غوطہ خوروں کی مدد سے نکال لی گئی۔ ذرائع کے مطابق واصف شادی شدہ ہے۔ کچھ دن پہلے آصف نے اپنے دوست طیب کے ساتھ دہلی میں ملکرلڑکی کو کار کے ذریعے سہارنپور منتقل کیا اورجب لڑکی نے شادی کرنے پر اصرار کیا تو ملزم اسے تفریح کے بہانے ہتھنی کنڈ بیرج پر لے گیا اوراسے دریا میں ڈھکیل دیا۔