مراٹھا ریزرویشن منسوخ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں مراٹھا تحفظات کو منسوخ کردیا ہے۔ ریاست میں پچاس فیصد سے زائد ریزرویشن ہونے کی بنا پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ۔ سال 2018 میں ریاست میں بی جے پی حکومت نے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مراٹھا طبقہ سے تعلق رکھنےو الے افراد کو 16 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے جس پر سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ۔
مراٹھا تحفظات کی آئینی حیثیت سے متعلق جسٹس اشوک بھوشن کی قیادت میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ریاستوں کو اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کی بھی سماجی و معاشی طور پر پسماندہ کی حیثیت سے نشاندہی کریں ۔ عدالت نے کہا کہ یہ 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور یہ برابری کے حق کی خلاف ورزی ہے ۔ سپریم کورٹ نے ریزرویشن کی حد 50 فیصد پر طے کرنے کے 1992 کے منڈلہ فیصلہ کو وسیع بینچ کے پاس روانہ کرنے سے انکار کردیا ساتھ ہی عدالت نے سرکاری ملازمتوں او داخلوں میں مراٹھا طبقہ کو ریزرویشن دینے سے متعلق مہاراشٹر کے قانون کو رد کردیا اوراسےغیر آئینی قرار دیا۔سپریم کورٹ کے مطابق مراٹھا طبقہ تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ نہیں ہے اس لئے انہیں تحفظات فراہم نہیں کئے جاسکتے۔
اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتی ریاست میں تحفظات کی اس حد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پانچ ججس کی بنچ نے چار الگ الگ فیصلے سنائے لیکن تمام کا یہی ماننا ہے کہ مراٹھا طبقہ کو ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا ۔ ریزرویشن صرف پسماندہ طبقات کو ہی دیا جاسکتا ہے اور مراٹھا طبقہ اس زمرہ کے تحت نہیں آتا۔