لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے معاملے میں چیف منسٹر تلنگانہ کا بڑا بیان

حیدرآباد _ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کوئی لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے عوامی زندگی مفلوج ہوجائے گی اور ریاست کی معیشت کو تباہی کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ چیف منسٹر نے یہ فیصلہ اس حقیقت کی جانچ کے بعد لیا ہے کہ ماضی کے تجربات کے ساتھ دیگر ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے باوجود بھی مثبت کیسوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ریاست کو درکار ویکسین اور  آکسیجن کی فراہمی کے بارے میں فون پر بات کی اور درخواست کی کہ وہ فوری  ویکسین اور آکسیجن کی سربراہی کے انتظامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ  حیدرآباد ایک طبی مرکز بن گیا ہے ، سرحدی ریاستوں کے عوام بھی طبی خدمات کے لئے حیدرآباد کے دواخانوں سے رجوع ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ کوویڈ علاج کے لئے مہاراشٹر ، چھتیس گڑھ ، کرناٹک ، آندھراپردیش ریاستوں سے عوام حیدرآباد آنے سے حیدرآباد پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ تلنگانہ کے مریضوں کے علاوہ کورونا کے 50 فیصد مریض دیگر ریاستوں سے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے حیدرآباد میں آکسیجن ویکسین  اور دوائیوں کی دستیابی میں قلت پیدا ہورہی ہے۔

چیف منسٹر نے پرگتی بھون میں کورونا کے حالات سے متعلق ایک اعلی سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔
اس موقع پر ،چیف منسٹر نے ریاست میں موجودہ کورونا حالات کا مکمل جائزہ لیا۔ فی الحال کتنا آکسیجن مل رہا ہے اور کتنی ضرورت ہے؟ کتنے ویکسین دستیاب ہیں اور روزانہ کتنی ضرورت ہے؟  ریاست کو روزانہ کتنی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ابھی تک 9،500 آکسیجن بیڈ موجود ہیں اور انہیں حیدرآباد سمیت دیگر اضلاع میں شامل کیا جائے گا تاکہ یہ تعداد چند روز میں مزید 5 ہزار ہوجائے۔ چیف منسٹر نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ چین سے آکسیجن کی بہتر فراہمی کے لئے  ایک کروڑ روپے کی لاگت سے فوری طور پر چین سے 12 کریوجنک ٹینکر درآمد کریں۔ ریاست بھر کے پرائمری ہیلتھ سینٹرز ، کمیونٹی ہاسپٹل ایریا ہاسپٹلس میں مجموعی طور پر 5980 کوویڈ آؤٹ پیشنٹ مراکز قائم کیے ہیں اور لوگوں کو ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی ۔
عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ دوسری لہر میں اب تک سرکاری اور خانگی اسپتالوں میں ایک لاکھ پچاس ہزار مثبت واقعات درج کیے گئے ہیں ، جن میں سے ایک لاکھ تیس ہزار (85 فیصد) صحت یاب ہوچکے ہیں۔