ایجوکیشن

خانگی مدارس کے مسائل پر عنقریب مشاورتی اجلاس

حیدرآباد: کوویڈ۔19 وباء کے باعث گذشتہ ڈیڑھ سال سے خانگی تعلیمی مدارس اور اساتذہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور انھیں کئی مسائل کا درپیش ہیں۔ ان مسائل کی یکسوئی کے لئے کوشاں خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کے ایک نمائندہ وفد نے رکن قانون ساز کونسل کے کویتا سے ملاقات کی جو ٹی آر ایس کی اہم لیڈر ہیں۔ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک وفد نے کنوینر فضل الرحمن خرم کی قیادت میں کویتا سے ملاقات کی اور ان سے خانگی مدارس کے مسائل اور اسکولی تعلیم کے موضوع پر تفصیلی بات چیت کی۔ کویتا نے وفد کو تیقن دیا کہ وہ ان مسائل کی یکسوئی کے لئے ہر ممکن مدد اور تعاون کریں گی۔ سینئر ٹی آر ایس قائد نے تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں جلد ہی ایک مشاورتی اجلاس طلب کریں گی۔ وفد نے جن مسائل کی یکسوئی پر زور دیا ان میں ایکسٹینشن آف ٹمپریری ریکگنیشن (ای ٹی آر) کی تجدید، جی ایچ ایم سی ٹیکسس کی معافی، فائر اور ٹریفک این او سی کی اجرائی میں رعایت، جی او ایم ایس نمبر 102، 180 سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ جے اے سی کنوینر فضل الرحمن خرم نے کویتا کو پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنس جوائنٹ کمیٹی کی باقاعدہ افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے مدعو کیا جس سے انھوں نے اتفاق کیا۔ کویتا نے خواہش کی کہ دسمبر 2021 ء کے وسط میں اس تقریب کے لئے کوئی تاریخ متعین کی جائے۔ وفد میں میر غضنفر علی خان جاوید، میر محسن علی اور محمد مخدوم علی خان و دیگر شامل تھے۔ فضل الرحمن خرم نے بتایا کہ کئی ریاستوں میں اسکولس پر مختلف محاصل پر چھوٹ حاصل ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عارضی مسلمہ حیثیت میں توسیع (ای ٹی آر) اور پراپرٹی ٹیکس و دیگر محاصل کی وجہ سے موجودہ حالات میں اسکولوں پر بوجھ میں اضافہ ہوا ہے‘ اسی لئے حکومت سے ان کی درخواست ہے کہ وہ ان مسائل پر ہمدردانہ غور کرے، تاکہ خانگی مدارس ریاست میں تعلیم کے شعبہ میں اپنی خدمات اور تعاون جاری رکھ سکیں۔ جے اے سی وفد نے رکن قانون ساز کونسل کی حیثیت سے دوبارہ انتخابات پر کویتا کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وفد نے جے اے سی کی سابقہ تائید اور اسکولوں کے مسائل کی یکسوئی میں مدد کے لئے ان سے اظہارتشکر کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button