تلنگانہ

محبت بھائی چارہ ہی سیکولرزم کی طاقت

اردوکے چھوٹے اخبارات کو انصاف دلانے کا تیقن تلنگانہ کے وزیر داخلہ محمد محمود علی کا دبنگ صحافت کو انٹرویو

حیدرآباد: تشکیل تلنگانہ کا مقصد تمام طبقات کیلئے انصاف کو یقینی بنانا تھا اورچیف منسٹر کے چندراشیکھر رائو کی قیادت میں ریاست تلنگانہ ملکی سطح پر اپنی منفرد پہنچان بنا چکا ہے،ان خیالات کا اظہار ریاست تلنگانہ کے وزیر داخلہ محمد محمود علی نے ایڈیٹر انچیف دبنگ صحافت رشید عالم الحفیظی کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں کیا،انہوں نے یہ انٹرویونرمل سے ملاقات کرنے گئے ایک صحافیوں کے وفد کی ملاقات کے بعد اپنی

سرکاری قیامگاہ پر دیا ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ ٹی آرایس سیکولرزم کی علمبردار ہے اور اس کا شمار بھی ملکی سطح پر سیکولر طاقتوں میں کیا جاتا ہے اس کی وجہہ انہوں نے بتائی کہ کے چندراشیکھر رائو ہر طبقہ کو ساتھ لیکر چلتے ہیں جس کی بناء پرریاست کا ترقی یافتہ صوبوں میں شمار کیا جارہا ہے،چند مٹھی بھر فرقہ پرست طاقتیں ریاست تلنگانہ کی پر امن فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش میں لگے ہیں لیکن تلنگانہ پولیس انہیں آہنی پنچوں سے کچل رہی ہے ،ریاست میں امن وامان کو اولین ترجیح دی جارہی ہے اسی لئے لاء اینڈ آرڈر میں بھی بہتری آچکی ہے نفرت پھیلانے والوں پر حکومت اپنا شکنجہ مظبوط کرچکی ہے۔ محمد محمود علی نے کہا کہ ہندومسلم اتحاد وقت کا تقاضہ ہے جو حسن اخلاق سے ممکن ہے انہوں نے بتایا کہ آپسی محبت سے ہی بھائی چارہ کو فروغ حاصل ہوگا اور نفرت کا خاتمہ بھی اسی سے کیا جاسکتا ہے،انہوں نے ریاست تلنگانہ میں جاری فلاحی اسکیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کی حکومت سے مطمئن ہے اور اسکیمات سے بھر پور فائد حاصل کررہی ہیں۔ وزیر داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حکومت اقلیتی اقامتی مدارس پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جس پر کروڑہا روپیوں کا خرچ کرتے ہوئے ہر مقام کیلے ایک جدید عمارت کا قیام عمل میں لارہی ہےاور اقلیتوں کے تعلیمی قابلیت کو اجاگر کرنے اور طلباء کا

مستقبل تابناک بنانے میں مصروف ہے تاکہ دورہ جدید میںمسابقتی رجحان طلباء میں پروان چڑھ سکے۔
محمود علی نے کہا کہ چندراشیکھر رائو ایک سیکولر قائد کی طرح ملک بھر میں ابھرے ہیں ریاستی حکومت کے تعارف کردہ فلاحی اسکیمات کا انبار ہے جن میں شادی مبارک کلیان لکشمی اقلیتوں کیلئے اقامتی مدارس ایک مثالی کارنامہ ہے اقلیتی اقامتی اسکولس کے ذریعہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں طلباء وطالبات کا مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ محمد محمودعلی نے رشید عالم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے اسکا جائز حق ملنا چاہئے موجودہ دور میں اردو اخبارات کی خدمات ناقابل فراموش ہے خصوصا انہوں نے چھوٹے اخبارات کے ساتھ ہورہی ناانصافی پر تبصرہ کیا اور کہا کہ ان کی حکومت اس پر غور کرے گی ،انہوں نے آخرمیں اردو صحافت

کے دوصد سالہ تکمیل پر اردو کے تمام شعراء ،صحافی،ادیب ،مصنفین، اور محبان اردوں کے مبارکباد پیش کی ۔
وزیر داخلہ محمود علی نے نرمل ضلع مستقر پر ماہ جولائی میں ہونے والے اعلی پیمانے پر کنونشن ”جشن دوصد سالہ اردو صحافت” کو کامیاب بنانے اردو حلقوں سے اپیل کی اور اس کنونشن میں اپنی شرکت کو بھی یقینی بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو زندہ رکھنا ہم سب کا فریضہ ہے،انہوں نے صحافیوں کی فلاح بہبود کیلئے حکومت کی جانب سے لائحہ عمل صدرنشین پریس اکیڈیمی الم نارائن کی پیش کردہ سفارشات پر تیا ر کیا گیا ہےجس کو عنقریب عملی جامہ پہنایا جائیگا،اس موقع پرصحافیوں کے وفد میں وصی اللہ خان ،عبدالعظیم میں شریک رہے جبکہ اردو صحافت کے دوصد سالہ کی اطلاعی پوسٹر سوشیل میڈیا کیلئے رسم اجرائی وزیر داخلہ محمود علی کے ہاتھوں عمل لایا گیا ۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button