تلنگانہ

تلنگانہ اسکولس۔ عدالت نے کیوں لگائی روک اورکیا کہا؟ جانئے تفصیلات

حیدرآباد:تلنگانہ ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں شخصی کلاسس کے آغاز کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکام پر ایک ہفتہ تک روک لگادی ہے۔ ریاستی حکومت نے یکم ستمبر سے شخصی طورپر کلاسس کے آغاز کا فیصلہ کیا تھا تاہم ہائی کورٹ نے ایک ہفتہ کے لئے اس پر روک لگادی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ شخصی کلاسس لازمی نہیں ہیں۔ریاستی حکومت کو عدالت نے ہدایت دی ہے کہ وہ اسکولس کو دوبارہ کھولنے کے سلسلہ میں اقدامات پر تفصیلی رپورٹ 4 اکتوبر تک داخل کرے۔
عدالت نے کہا کہ کوئی بھی سرکاری یا پرائیویٹ اسکول کے کسی بھی طالب علم کو یکم ستمبر سے شخصی کلاسس میں حاضر ہونے کے لئے مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ عدالت نے حکومت سے خواہش کی کہ وہ ایسے تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی نہ کرے جو آف لائن کلاسس منعقد نہیں کریں گے۔تعلیمی اداروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا آف لائن کلاسس کا احیا کیاجائے یا پھر آن لائن کلاسس جاری رکھی جائیں۔ عدالت نے محکمہ تعلیمات کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ ہفتہ رہنمایانہ خطوط جاری کرے۔
ساتھ ہی عدالت نے گروکلوں اور تعلیمی اداروں کے ہاسٹلس نہ کھولنے کی بھی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ کووڈ کیسس میں کمی کے پیش نظر یکم ستمبر سے تعلیمی اداروں کے دوبارہ آغاز کے سلسلہ میں جاری کردہ جی او کے خلاف حیدرآباد کے بالا کرشنا نے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ درخواست گزار نے کہاتھاکہ کووڈ کی تیسرلی لہر کے خدشہ کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو کھولا نہیں جانا چاہئے۔ اس درخواست پر آج سماعت ہوئی، اس کیس کی آئندہ سماعت 4 اکتوبر تک کےلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button