تلنگانہ کے سینئر صحافیوں کا چیف منسٹر چندرشیکھرراو کو کھلا مکتوب

حیدرآباد _ تلنگانہ کے سینئر صحافیوں نے چیف منسٹر چندرشیکھرراو  کو ایک کھلا خط لکھ کر صحافیوں کو کورونا سے بچانے کا مطالبہ کیا۔ بعدازاں انھوں نے حیدرآباد پریس کلب میں منعقدہ میڈیا کانفرنس سے خطاب کیا۔ صحافیوں نے کہا کہ کورونا کے دوران ریاست کے تمام صحافی پیشہ ورانہ طور پر ذمہ دارانہ کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے صحافی کورونا سے متاثر ہوکر فوت ہوگئے ہیں

کورونا کی تشخیص میں صحافیوں کے مثبت پائے جانے کے بعد علاج نہیں کیا جارہا ہے اور ہیلتھ کارڈ پر ان کا علاج نہیں ہورہا ہے ۔ اخبارات کے مالکین نے کراس کٹنگ کے نام پر سینکڑوں صحافیوں کو کورونا کی پہلی لہر کے دوران برطرف کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اداروں نے تنخواہوں میں کٹوتی عائد کردی ہے   تلنگانہ تحریک میں کلیدی کردار ادا کرنے والے صحافی آج ریاست میں مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں ۔ ان صحافیوں کی جانوں کو بھی بچانے کا مطالبہ کیا جو  تلنگانہ تحریک اور ریاست کی تشکیل میں سب سے آگے تھے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ متعدد ریاستوں کی حکومتوں بشمول تمل ناڈو ، دہلی اور کرناٹک نے صحافیوں کی شناخت فرنٹ لائن واریروں کے طور پر کی ہے ، لیکن تلنگانہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے انھوں نے  چیف منسٹر چندرشیکھرراو سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کو فرنٹ لائن واریر تسلیم کرے اور ہلاک ہونے والے صحافیوں کے لواحقین کو 25 لاکھ روپئے ادا کرے، کورونا سے الگ تھلگ رہنے والے صحافیوں کو 25،000 روپے کی مالی امداد اور تمام کارپوریٹ اور خانگی ہاسپٹلس میں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت کا مطالبہ کیا۔ ستیش کمال ، جیاسارتی ریڈی ، این. وشونااتھ ، ایودھیا ریڈی ، بی وینو ، پلے روییکومار ، ایم این سوامی نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔