گاو رکشک کو گایوں کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کی اجازت دی جائے: تلنگانہ ہائی کورٹ کے سنسنی خیز احکامات

حیدرآباد _ تلنگانہ ہائی کورٹ نے گایوں کی غیر قانونی منتقلی اور اس کے ذبح کو روکنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور ہائی کورٹ نے گایوں کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے لئے گاو رکشک کا تعاون حاصل کرنے پولیس کو ہدایت دی۔گاو گیان فاونڈیشن کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے لکشمن نے سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے سینر ایڈوکیٹ نرسمہا راو نے عدالت کو بتایا کہ بقرعید کے نام پر  اور عام دنوں میں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے دیگر مقامات پر گایوں کو ذبح کیا جا رہا ہے اس کے لئے بڑی تعداد میں گایوں کو غیر قانونی طور پر حیدرآباد منتقل کیا جا رہا ہے پولیس کو شکایت کرنے پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے خواہش کی کہ سال 2018 میں ہائی کورٹ نے گایوں کے ذبح پر پابندی عائد کی تھی عدالت کے ان احکامات پر عمل درآمد کیا جائے۔غیر قانونی طور پر گایوں کی منتقلی کو روکنے کے لئے گاو رکشک گاڑیوں کو روک رہے ہیں اور پولیس کو اس کی اطلاع دے رہے ہیں اس کے بعد بھی پولیس کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے جس پر جسٹس لکشمن نے کہا کہ ہائی کورٹ نے مارچ 2018 میں گایوں کے ذبح پر پابندی عائد کردی ہے ان احکامات پر عمل کیا جائے۔جسٹس کے لکشمن نے کہا کہ گاو رکشک کو گایوں کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کی اجازت دی جائے۔