تلنگانہ

تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی سالانہ ایوارڈ تقریب: جناب محمد محمود علی اور دیگر قائیدین کا خطاب

اردو صحافت اور صحافیوں کے مسائل کی یکسوئی کے لئے عملی اقدامات کا تیقن

تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی سالانہ ایوارڈ تقریب: جناب محمد محمود علی اور دیگر قائیدین کا خطاب

حیدرآباد 11دسمبر (پریس نوٹ) وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی نے اردو صحافت اور اردو صحافیوں کے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالنے کے لئے حکومت کی جانب سے مناسب‘ موثر اور جامع اقدامات کا تیقن دیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملہ میں حکومت بہت سنجیدہ ہے اور وہ اردو صحافیوں کے ساتھ انصاف کے لئے ٹھوس اقدامات میں یقین رکھتی ہے۔ وہ کل شب اردو مسکن موتی گلی میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام سالانہ ایوارڈ فنکشن کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس تقریب میں اردو صحافیوں اور عوامی قائیدین کی کثیر تعداد شریک تھی۔

 

جناب محمد محمود علی نے اس موقعہ پر موجود عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ میں مربوط اقدامات کریں اور اجلاس منعقد کرتے ہوئے رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے صحافیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے حالات کو سدھارنے کے لئے خود بھی اپنی کوششیں کریں۔ انہوں نے اس موقعہ پر مسلمانوں میں اسراف کے رجحان اور تعلیم سے غفلت پر افسوس کا اظہار کیا او ر کہا کہ مسلمانوں کی معیشت بہتر ہے تو وہ نہ صرف بے جا اسراف کرتے ہیں بلکہ تعلیم پر خرچ کرنا نہیں چاہتے۔ ان میں جرائم کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے‘ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ حالیہ عرصہ میں چندرائن گٹہ اے سی پی ڈویژن میں قتل کی 26وارداتیں ہوئیں جن میں قتل ہونے والے اور قتل کرنے والے تمام مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر شری کے سی آر کی قیادت میں اقلیت اور اردو کے ساتھ انصاف مل رہا ہے۔ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے‘ اردو میں نمائندگیوں کا جواب اردو میں دینے کے مقصد سے66اردو مترجمین کا تقرر کیا گیا ہے۔

 

اردو اقامتی اسکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں بچے بچیوں کو اردو کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم دی جارہی ہے۔ ہر سال ڈھائی سو طلبا و طالبات کو بیرون ملک تعلیم کے لئے فی کس 20لاکھ روپئے کی گرانٹ دی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ نے پر زور الفاظ میں کہا کہ مسلمان اپنے بچوں کو اردو سکھائیں اور ان کو لازمی طور پر اردو دین کی تعلیم دیں۔ جناب محمد محمود علی نے کہا کہ ریاست میں اردو زبان کا زوال 1956کے بعد سے شروع ہوا‘ جب کہ متحدہ آندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ لیکن تلنگانہ کے قیام کے بعد سے اردو اور اقلتیوں کے ساتھ انصاف ہورہا ہے۔حکومت نے صحافیوں کی امداد کے لئے میڈیا اکیڈمی کو100کڑوڑ روپئے کی رقم منظور کی ہے وہ اردو کے صحافیوں کو اس اسکیم کے تحت امداد کی فراہمی کے اقدامات کریں گے۔گزشتہ دوسال کے دوران فوت ہونے والے صحافیوں کے ورثا کو فی کس ایک لاکھ روپئے اور کرونا سے فوت ہونے والے صحافیوں کے ورثا کو دو لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی۔ انہو ں نے اس معاملہ میں فیڈریشن کے ساتھ مشاورت کا بھی یقین دلایا۔

 

جناب احمد بلعلہ رکن اسمبلی نے کہا کہ صحافت کمزور ہوتی جارہی ہے‘ صحافیوں کو بھی خود محنت کرنی چاہئے۔ اس تقریب میں تین صحافیوں کو ایوارڈ پیش کئے گئے جو توصیفی سند‘ میمنٹو اور دس ہزار روپئے کیسہ زر پر مشتمل تھے۔ فیض محمد اصغر ایوارڈ سینیئر صحافی جناب شوکت علی خان کو دیا گیا انور ادیب ایوارڈ جناب طاہر رومانی کو اور تبسم فریدی ایوارڈ جناب سید منیر الدین ظہیر آباد کو دیا گیا۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نشین تلنگانہ میڈیا اکیڈیمی جناب الم نارائنا نے اردو صحافیوں کو اکریڈیشن‘ٹریننگ اور دیگر مسائل کی یکسوئی کے لئے ٹھوس اقدامات کا تیقن دیا۔ جناب سید عمر جلیل آئی اے ایس کمشنر انٹر میڈیٹ بورڈ نے کہا کہ انہوں نے جرنلزم کے کورس کی تکمیل کے باوجود سول سروس کو اختیار کیا ہے۔

 

آج کل سوشیل میڈیا کا دور ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کا زور کم ہوگیا ہے۔ جرنلزم سے وابستہ افراد کو مناسب ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے۔ صدر انڈین جرنلسٹس یونین جناب سرینواس ریڈی نے کہا اردو کے اخبارات بھی زیادہ ہیں اور ان کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ جناب محمد قمر الدین سابق صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ اقلیتی کمیشن‘ جناب خواجہ وراحت علی جنرل سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے بھی مخاطب کرتے ہوئے فیڈریشن کو مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر محمد غوث ڈائریکٹر سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی بھی شہ نشین پر موجود تھے۔

 

جلسہ کا آغاز قاری سلطان احمد کی قرأت کلام پاک اور محمد عبدالمنان کے ہدیہ نعت سے ہوا۔صدر فیڈریشن جناب ایم اے ماجد نے مخاطب کرتے ہوئے صحافیوں کے مسائل کی یکسوئی کے لئے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اکریڈیشن کے معاملہ میں اردو صحافیوں کو علیحدہ زمرہ قرار دینے کئے صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی کی کوشش کی ستائش کی۔ جنرل سکریٹری جناب سید غوث محی الدین نے خیر مقدم کیا۔ کنوینر جناب حبیب علی جیلانی نے کارروای چلائی اور شکریہ ادا کیا۔ اس موقعہ پر جناب محمد آصف علی نیوز ایڈیٹرکو مولانا آزاد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے پر تہنیت پیش کی گئی۔

 

جناب حبیب علی جیلانی‘ جناب ریاض احمد اور جناب محمد فاروق علی نے ایوارڈز اور ایوارڈ پانے والی شخصیتوں کا تعارف پیش کیا۔ جناب محمد قیوم انور‘ جناب پاپا خان.نظام آباد‘ اور دوسرے بھی اس موقعہ پر موجوود تھے۔ اجلاس کے آغاز پر ممتاز صحافی جناب سید وقار الدین چیف ایڈیٹر رہنمائے دکن و صدر نشین انڈو عرب لیگ کے انتقال پر جناب محمد عبدلقادر فیصل نے تعزیتی قرار داد پیش کی اور دومنٹ کی خاموشی منائی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button