تلنگانہ

ٹی آر ایس دور حکومت میں 8 مساجد شہید ۔ شمس آباد‌ کی مسجد دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کرنے کانگریس کا مطالبہ

حیدرآباد: جگتیال میں کانگریس قائد سابقہ بلدیہ وائس چیرمین سراج الدین منصور نے اپنی قیام گاہ پر پریس کانفریس کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کے حالیہ دنوں میں حیدرآباد میں گرین ایونیو کالونی شمس آباد میں واقع مسجد خواجہ محمود کی محکمہ بلدیہ کی جانب سے انہدامی کاروائی کی گئی جو قابل مزمت ہے۔

انہوں نے کہا کے مسجد اللہ پاک کا گھر ہے اسکی بے حرمتی کی گئی کانگریس پارٹی کی جانب سے ٹی آر ایس حکومت پر سخت تنقید کر رہی ہے ٹی آریس پارٹی کے 8 سالہ دور میں تلنگانہ میں 8 مساجد کو سڑکوں کی کشادگی اور دیگر بہانے بناکر شہید کیا گیا جو قابل افسوس ہے انہوں نے کہا کے ایسی حکومت پر لعنت ہے جو اللہ پاک کے گھروں کو نشانہ بناکر شہید کیا جارہا ہے سراج الدین منصور نے کہا کے ٹی آر یس حکومت آر یس یس اور بی جے پی کے ایجنڈاہ پر کام کر رہی ہے اور کہا کے ہم نے راجندر نگر رکن اسمبلی سے فون پر اس واقع کی مزمت کر تے ہوئے اسی مقام پر مسجد کی تعمیر کر نے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تیقن دیا کے ہم مسجد کو اسی مقام پر تعمیر کرینگے ہم نے سوال کیا کے محکمہ بلدیہ کی انہدامی کار وائی سے حکومت کا کوئی علم نہی تھا کیا؟ اسکے جواب میں رکن اسمبلی نے نفی میں جواب دیا کہ ہم کو علم نہی تھا ہم کو بھی تکلیف ہورہی ہے ، جسکا ویڈیو اور وائس ریکاڈ سراج الدین منصور نے میڈیا کے سامنے پیش کیا اسی طرح ہم نے ریاستی وزیر داخلہ سے فون پر رپط کر نے کی کوشش کی وہ اپنا فون اٹھانے سے قاصر رہے سراج الدین منصور نے کہا کے تلنگانہ میں بی جے پی اور آر یس یس والوں کے نشانہ پر سینکڑوں مساجد ہیں اس میں ٹی آریس کے چیف منسٹر نے مساجد کو شہید کر کے مسلمانوں کے دلوں ٹھیس پہنچاکر آریس یس اور بی جے پی والوں کی مدد کی ہے۔

ریاستی چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کے حقیقی ہمددر کہنے والے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہے ہم سخت مزمت کر رہے ہیں ساتھ ہی ہم اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کے ریاستی چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر بلدی نظم ونسق کے ٹی آر اور وزیر داخلہ محمود علی اپنے عہدوں سے استفیٰ دئیں اور مسلمانوں سے معافی مانگے۔ وزیرداخلہ محمد محمود علی مسجد خواجہ محمود کی اسی مقام پر تعمیر کر نے کے لئے آگے آئیں اس موقع پر محمد زولفقار علی زولفے خواجہ سمیع الدین اظہر محمد حبیب خواجہ کمال الدین اور دیگر موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button