تلنگانہ

اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بجٹ مختص کرنے والے ملک میں ڈاکٹر روشیا پہلے وزیرفینانس : محمد علی شبیر

حیدرآباد _ 4 ،دسمبر ( اردو لیکس) کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر محمد علی شبیر نے متحدہ آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر اور تمل ناڈو کے سابق گورنر ڈاکٹر کے روشیا کے انتقال پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ روشیا وسیع سیاسی تجربہ، علم اور قابلیت کے حامل سیاستدان تھے اور اپنی سادگی اور صبر و تحمل کی وجہ سے سب کو پیارے تھے۔ ان کا انتقال میرے لیے ذاتی نقصان ہے۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک میرے لئے ایک حقیقی سرپرست اور رہنما تھے

اپنے تعزیتی پیغام میں  شبیر علی نے ڈاکٹر روشیا کے ساتھ گزشتہ تین دہائیوں کی اپنی رفاقت کو یاد کیا۔ "ہم 1989-1994 اور پھر 2004-2009 تک اس وقت کے چیف منسٹرس ڈاکٹر مری چننا ریڈی، ڈاکٹر کوٹلہ وجئے بھاسکر ریڈی اور ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھرا ریڈی کی کابینہ میں کابینی رفقاء تھے۔محمد علی شبیر نے کہا کہ میں صرف 32 سال کا تھا جب میں 1989 میں ڈاکٹر مری چننا ریڈی کی کابینہ میں وزیر کے طور پر شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر روشیا نے مجھ سے  طالب علم کی طرح سلوک کیا اور مجھے حکمرانی اور سیاست کے کئی عملی اسباق سکھائے۔ وہ مالیاتی نظم و نسق اور انتظامیہ میں کافی ماہر تھے۔

شبیر علی نے کہا کہ  1993-94 میں اقلیتوں کی بہبود کے لیے 3 کروڑ کی رقم وزیر فینانس کی حیثیت سے  ڈاکٹر روشیا نے بجٹ میں مختص کی تھی ۔ اس طرح روشیا کو ملک میں پہلی مرتبہ اقلیتوں کے لئے بجٹ مختص کرنے کا  اعزاز حاصل ہے کیونکہ اس وقت پہلی مرتبہ کانگریس حکومت کے ذریعہ ملک کے پہلے اقلیتی بہبود کے محکمے کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی

روشیا کا ماننا تھا کہ مناسب فنڈنگ ​​کے بغیر کوئی فلاحی سرگرمیاں شروع نہیں کی جا سکتیں۔ اس لیے انہوں نے سالانہ بجٹ میں ایک رقم مختص کی۔ اس کے بعد  تمام حکومتوں کو اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بجٹ مختص کرنے پر مجبور کیا گیا۔بعد ازاں ہر بجٹ میں مختص رقم کو بڑھایا گیا اور 2003-04 میں یہ رقم 33 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو مختص رقم میں کئی گنا اضافہ کیا گیا  اور 2013-14 تک وہ بڑھ کر 1,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔محمد علی شبیر نے کہا کہ تمام اقلیتی طبقہ ڈاکٹر روشیا کی ان کی دور اندیشی اور بصارت کے لیے مقروض رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button