کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے گھریلو نسخے نے ایک نوجوان کی جان لے لی _ حیدرآباد میں واقعہ

حیدرآباد _ کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد سے کئی لوگ وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے نئے نئے گھریلو نسخے استعمال کررہے ہیں اسی طرح کے ایک گھریلو نسخے نے ایک نوجوان کی جان لے لی۔جب کہ اس کی بیوی اور ماں ہاسپٹل میں شریک ہیں

یہ واقعہ تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کا ہے جہاں الوال پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع چندرا نگر کالونی کا رہنے والا 30 سالہ سریش نے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے گزشتہ چند دنوں سے دودھ میں کالا نمک ملا کر پی رہا تھا اس کے ساتھ اس کی بیوی 26 سالہ سندھیا اور ماں 52 سالہ لکشمی بھی دودھ میں کالا نمک ملا کر پی رہے تھے بتایا گیا ہے کہ رمیش کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ کالا نمک کو دودھ میں ملا کر پینے سے کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوتے۔پڑوسیوں کے مشورے پر رمیش اس عمل کو شروع کیا تھا لیکن جمعہ کی رات دودھ پینے کے بعد تینوں کی طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں ایک خانگی ہاسپٹل منتقل کردیا گیا طبیعت مزید بگڑنے پر اسے گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں علاج کے دوران سریش کی موت ہوگئی اور اس کی ماں اور بیوی کا علاج جاری ہے

کالا نمک کیا ہے؟

کالا نمک کو  پہاڑی نمک بھی کہا جاتا ہے جس میں روایتی طور پر جڑی بوٹیوں اور مصالحہ جات کو ملایا جاتا ہے اور پھر بہت زیادہ درجہ حرارت میں گرم کیا جاتا ہے، تاہم آج کل اسے بنانے کے لیے سوڈیم کلورائیڈ، سوڈیم سلفیٹ، سوڈیم bisulfate اور فیرک سلفیٹ کو ملایا جاتا ہے، جس کے بعد نمک کو کوئلے میں مکس کرکے گرم کیا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں عام نمک بہت زیادہ پراسیس اور ریفائن ہوتا ہے یعنی بیشتر معدنیاتی ذرات نکال دیئے جاتے ہیں۔کالے نمک کی مختلف اقسام کا ذائقہ بھی عام نمک سے مختلف ہوتا ہے، جس کی مہک بھی منفرد ہوتی ہے جو پکوانوں کی خوشبو کو بہتر بناتی ہے۔عام نمک کا ذائقہ نمکین ہوتا ہے مگر اس میں ہلکی سی مٹھاس، ترش یا تلخ ذائقے کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے اور یہی نمک کی وہ قسم ہے جو بیشتر پراسیس غذاﺅں کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے