تلنگانہ

روئے زمین پر جب تک اردو تب اردو بولنے والے زندہ ہیں کوئی بھی اردو زبان کو مٹا نہیں سکتا: عائشہ مقصود

حیدرآباد میں آزاد لٹریری فورم کے اجلاس سے امریکہ میں اردو کی آبیاری کیلئے انتھک جدوجہد کرنے والی خاتون کا خطاب

حیدرآباد: حیدرآباد کی دختر عائشہ مقصود کی امریکہ میں اردو زبان کے فروغ کےلئے بیش بہا سماجی اور ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ یہاں یہ تذکرہ ضروری ہوگا کہ امریکہ میں مقیم عائشہ مقصود نے اردو کاز کے لئے اپنی جدوجھد جاری رکھتے ہوے امریکہ میں اردو زبان کی آبیاری میں مصروف ہیں۔

ان کی حیدرآباد آمد کے موقع پر آزاد لٹریری فورم کی جانب سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔جس میں اردو کاز کے لئے خدمات انجام دینے والے مقررین نے اردو کے کاز کو امریکہ میں جاری رکھنے پر عائشہ مقصود کی زبردست ستائش کی اور ان کے دور حصول تعلیم دوران میں اردو ادب میں ان کے کارناموں سے شرکائے نشست کو واقف بھی کروایا۔اس موقع پر عائشہ مقصود نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اج وہ جس مقام پرہیں یہ ان کے والدین کی دعاؤں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ روئے زمین پر جب تک اردو تب اردو بولنے والے زندہ ہیں کوئی بھی اردو زبان کو مٹا نہیں سکتا ۔ انہوں نے اپنے تعلیمی دور اسکے علاوہ بالخصوص اردو روزنامہ ہمارا عوام اور آل انڈیا ریڈیو میں خدمات کو یاد کیا۔انہوں نے بتایا کہ انکی ہی ترغیب کے باعث انکے شوہر نے میدان سیاست میں قدم رکھا تھا۔

انہوں نے امریکہ میں اردو کو فروغ دینے کیے جارہے قابل تقلید و توصیف اقدامات سے بھی شرکائے نشست کو واقف کروایا۔ میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقدہ اس نشست میں محبان اردو کی کثیر تعداد موجود تھی۔فورم کے صدر مصطفی علی سروری نے نظامت فرائص انجام دئیے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button