تلنگانہ

کرایہ پر حاصل کردہ عمارت غیر کارکرداورناکارہ، نرمل میں میناریٹی ریسیڈنشل اسکول کا کوئی پرسان حال نہیں: کانگریسی قائد و ریاستی ترجمان ایم اے لطیف کا دورہ

نرمل (دبنگ نیوز بیورو) کنکاپور نرمل میں واقع اقلیتی اقامتی ہائی اسکول کیلئے کرایہ پر حاصل کی گئی عمارت کا کانگریسی قائد وکل ہند پولنگ بوتھ کمیٹی ریاستی ترجمان ایم اے لطیف نے اتوارکے دن یہاں کا صحافیوں کے ہمراہ دورہ کیا۔ اولیائے طلباء کی خواہش اور اصرار پرانھوں نے یہاں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ بہت بڑی غلطی ہیکہ اقلیتی اقامتی اسکول کو شہر نرمل سے دور دس کلو میٹر پر رکھا جارہا ہے اور وہ بھی ایک کرایہ کی عمارت میں جو غیر کارکرداور ناکارہ ہے۔
انہوں نے اپنے دورہ کے موقع پر وارڈن امتیاز سے بات چیت کی اور تفصیلات حاصل کیں، انہوں نے عمارت کی زبوں حالی پر افسوس کا اظہار کیا کہ جہاں معصوم طلباء مقیم ہوتے ہیں وہاں پر اسکول کی حصار (باونڈری وال) نہیں ہے اگر کوئی طالب علم باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہےتو اسکول لب سڑک ہونے کی وجہ سے حادثہ کا شکار ہوسکتا ہےجو ذمہ داروں کی عدم دلچسپی اورغیرذمہ داری کا کھلا ثبوت ہے، اسکے علاوہ انہوں نے کہا کہ جہاں طلباء کی کثیرتعداد زیر تعلیم اور زیر اقامہ ہو وہاں بیت الخلاء اور طہارت خانوں کا نظم بہتر سے بہتر ہونا چاہئے لیکن یہا ں بیت الخلاء اور طہارت خانے کم تعداد میں ہیں،اور پکوان کیلئے کوئی موزوں جگہ نہیں ہے اور ڈائنگ ہال صرف برائے نام ہے جو طلباء کیلئے ناکافی ہے ،ایم اے لطیف نے بتایا کہ طلباء کے لیئے صرف،چھوٹا ڈائننگ حال ہے،اگر ایک وقت میں کھانا کھلایا جائے تو سارے طلباء ایکساتھ نہیں سماپاتے ہیں جس میں صرف 100طلباء ہی طعام خانے میں بیٹھ کر طعام کرسکتے ہیں ،اس موسم برسات میں باقی طلباء کہاں جاکر کھانا کھاسکیں گے اس کا کوئی جواب عہدیداروں کے پاس نہیں۔
انھوں نے کہا کہ تمام عملہ موجود ہے لیکن تعلیمی سال کے شروع ہوئے بیس دن گذر چکے لیکن ابھی تک تعلیمی نظم شروع نہیں ہوا اسکے ذمہ دار کون ہیں ایم اے لطیف نے کہا کہ کئی طلباء کیلئے ایک ہی عربی معلم کا تقرر عمل میں لایا گیا جو تعلیم وتربیت کیلئے ناکافی ہورہا ہے انھوں نے اس موقع میڈیا کے ذریعہ اعلی حکام بالخصوص اے کے خان ،ریاستی نگران کار ،اور ضلع اقلیتی ویلفیر آفیسر سے مطالبہ کیا کہ جلداز جلداس مسئلہ کا حل نکالیں اور فوری طور پر جدید عمارت کے تعمیری کاموں کو مکمل کرواتے ہوئے وہاں اس اسکول کو منتقل کیاجائے۔ انہوں نے آخر میں ریاستی وزیر الولہ اندراکرن ریڈی سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حلقہ کے اقلیتی مدارس کا ازخود جائزہ لیں اور مسائل کا مشاہدہ کریں کیونکہ جدید تعمیر ی عمارت فنڈ کی عدم اجرائی سے نامکمل حالات میں پڑی ہے اسکی تعمیر جلد مکمل کرنے کیلئے وہ اپنا اثر ورسوخ بناتے ہوئے فنڈز کی منظوری عمل میں لائیں تاکہ حکومت کے دعوے صحیح ثابت ہوسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button