سیکریٹریٹ مساجد کے مسلہ پر چیف منسٹر چندرشیکھرراو کو سابق وزیر محمد علی شبیر کا مکتوب

حیدرآباد _ 9 دسمبر( اردو لیکس) کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر چندرشیکھرراو سے مطالبہ کیا کہ سکریٹریٹ کی مساجد کی حقیقی مقام پر تعمیر کو ثابت کریں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں مساجد اپنے حقیقی مقام سے ہٹ کر تعمیر کی جارہی ہیں۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے اس مسئلہ پر چیف منسٹر کو کھلا مکتوب روانہ کیا اور اُن سے وضاحت طلب کی ہے۔ گاندھی بھون میں پارٹی کے اقلیتی قائدین ایس کے افضل الدین، سمیر ولی اللہ، عظمیٰ شاکر اور متین شریف کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ سکریٹریٹ کی مسجد دفاتر معتمدی اور مسجد ہاشمی کی تعمیرِ نو کے موقع پر حقیقی مقام تبدیل کردیا گیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے منہدم کردہ دونوں مساجد کے حقیقی مقام کے بارے میں شبہات کا اظہار کرتے ہوئے پہلے ہی چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا تھا

 

۔ 25 نومبر کو تقریب سنگ بنیاد کے موقع پر بھی محمد علی شبیر نے حکومت کو حقیقی مقام کے بارے میں وضاحت کا چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اندرون پندرہ یوم چیف منسٹر وضاحت نہیں کریں گے تو کانگریس پارٹی قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کرتے ہوئے انصاف کیلئے جدوجہد کرے گی۔ چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کے خلاف عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 کی خلاف ورزی سے متعلق کریمنل کیس درج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اور 8 جولائی 2020 کی درمیانی شب مساجد کو شہید کیا گیا اور چیف منسٹر نے 10 جولائی کو مساجد کو معمولی نقصان کا اعتراف کیا۔