تلنگانہ

نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں سے نمٹنے نیا قانون بنایا جائے: محمد علی شبیر

حیدرآباد_ 7 جون ( اردولیکس) کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر محمد علی شبیر نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا قانون بنانے کی راہ کو تلاش کرے۔

شبیر علی نے منگل کو ایک میڈیا بیان میں تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایک الگ قانون ہونا چاہیے جس کے تحت فوری گرفتاری اور فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ "نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اس طرح کے بیانات دینے والوں کے خلاف مناسب اور بروقت کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ کچھ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈروں کے پاس قانون کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ مذہب، اس کے طریقوں، تعلیمات اور عقائد کے خلاف وہ توہین آمیز تبصرہ کرنے سے آسانی سے بچ سکتے ہیں۔انہیں وجوہات کی بناء پر وہ بار بار دوسری برادریوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ایسے مجرموں کے لیے سخت سزا کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا قانون بنایا جانا چاہیے۔

کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ میں فرقہ پرست عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر کے ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی نے مل کر تلنگانہ کے ماحول کو خراب کرنے کی سازش کی ہے۔ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے لیڈروں کے حالیہ بیانات کا ایک سادہ تجزیہ پولرائزیشن کو فروغ دینے کے لیے ان کی طرف سے اختیار کیے گئے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لیے بیانات اور جوابی بیانات کا ایک سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں

کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ کے حالات کو فرقہ وارانہ بنانے کے لئے بی جے پی کے گیم پلان کا حصہ نہیں ہے تو اسے نفرت انگیز تقاریر کے حالیہ واقعات میں مناسب کارروائی کرنی چاہئے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حیدرآباد کے اپنے دورے کے دوران مسلم کمیونٹی کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کیے اور ملازمتوں اور تعلیم میں ان کا 4 فیصد کوٹہ ختم کرنے کی دھمکی دی۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے نے حالیہ دنوں میں ایک درجن سے زیادہ اشتعال انگیز بیانات دیے ہوں گے۔ ماضی میں مسلم کمیونٹی، اردو زبان اور دیگر مسائل کے خلاف بھی بیانات دئے ۔ انہوں نے شیو لنگوں کی تلاش کے لیے تمام مساجد کو کھودنے کا مطالبہ بھی کیا۔ لیکن امیت شاہ یا بنڈی سنجے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 4 فیصد مسلم ریزرویشن کو ہٹانے کی امیت شاہ کی دھمکی کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اپنی خاموشی سے کے سی آر نے امیت شاہ کے مسلم کمیونٹی کے خلاف اظہار خیال کی تائید کی ہے۔ ٹویٹر پر روتے ہیں، لیکن ان کی پارٹی کی حکومت زمین پر کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے۔ اسے بھاشن موڈ سے ‘ایکشن’ موڈ میں بدلنا چاہیے اور پولیس حکام کو ہدایت دے کہ وہ بی جے پی اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کریں،

 

متعلقہ خبریں

Back to top button