تلنگانہ

سدی پیٹ کلکٹر پی وینکٹ رام ریڈی کے استعفی اور ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی اطلاعات پر محمد علی شبیر نے کہی یہ بڑی بات

کانگریس کے سینئر لیڈر و  سابق وزیر محمد علی شبیر نے سدی پیٹ کلکٹر پی وینکٹ رام ریڈی کے ٹی آر ایس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے کلکٹر کے عہدہ سے مستعفی ہونے کی خبروں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے  کہا کہ کانگریس پارٹی کے الزامات درست ثابت ہوئے ہیں کیونکہ اس شخص کو پارٹی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ جو ابتداء سے ٹی آر ایس ایجنٹ کے طور پر کام کررہے تھے

محمد علی شبیر  نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے دو کلکٹرس کے خلاف صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے پاس شکایت درج کرائی ہے جس میں کاماریڈی اور سدی پیٹ کے ضلع کلکٹروں، اے شرت اور پی وینکٹ رام ریڈی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ان دونوں کلکٹرس نے برسرعام چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے پاؤں چھوئے تھے۔ شبیر علی نے کہا صدر جمہوریہ نے میری شکایت پر رد عمل ظاہر کیا ہے اور معاملہ کو مرکزی وزارت پرسونل کو بھیج دیا ہے اور چیف سکریٹری سومیش کمار سے بھی رپورٹ طلب کی ہے۔ لیکن مرکز اور چیف سکریٹری،  صدر جمہوریہ کی مداخلت کے باوجود وینکٹ رام ریڈی اور شرت کے خلاف کارروائی میں تاخیر کررہے ہیں ۔ تاہم، دونوں کو آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز، 1968 کی خلاف ورزی پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

کانگریس لیڈر نے کہا کہ آئی اے ایس افسران ضلع مجسٹریٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان دونوں نے چیف منسٹر کے پیر چھو کر ایک غلط پیغام بھیجا ہے اور ایک سیاسی کارکن کی طرح ایک غلط مثال قائم کی ہے  ۔ آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز کی دفعہ 3 (ii)، 1968 واضح طور پر کہتا ہے کہ ‘سروس کا ہر عہدیدار سیاسی غیر جانبداری برقرار رکھے گا۔ لہذا، سدی پیٹ اور کاماریڈی کلکٹر AIS قوانین کی خلاف ورزی کے قصوروار ہیں انہوں نے صدر جمہوریہ ہند پر زور دیا کہ وہ دونوں ضلع کلکٹرس کے خلاف ان کی شکایت پر کارروائی کریں،

متعلقہ خبریں

Back to top button