تلنگانہ

وسیم رضوی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے ائمہ خطبہ سے اپیل _ یونائیٹڈ مسلم فورم کا اجلاس

حیدرآباد 16۔نومبر (پریس نوٹ) مسلم تنظیموں اور مذہبی اداروں کی مشترکہ تنظیم یونائیٹڈ مسلم فورم کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرار داد منظور کی گئی کہ ریاست تریپورہ میں مسلمانوں کی املاک پر حملے اور مساجد کو نقصان‘ وی ایچ پی کی ریالی میں توہین رسالت ؐ کے نعروں کے خلاف مرکزی و ریاستی حکومتیں سخت کاروائی کریں۔ علماء مشائخ اور معززین کے اجلاس میں کہا گیا کہ مسلمان اپنا سب کچھ قربان کرسکتا ہے اور اپنا سب نقصان برداشت کرسکتا ہے لیکن توہین رسالت ؐ کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ یونائیٹڈ مسلم فورم کے اجلاس میں ملعون وسیم رضوی کے شرانگیز بیانات کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

تمام مساجد کے آئمہ اور خطبہ سے اپیل کی گئی کہ وہ مرتد وسیم رضوی کی جانب سے گستاخانہ سرگرمیوں کے خلاف جمعہ میں آواز اٹھائیں اور ملت اسلامیہ کو اس قبیح حرکت کی سنگینی سے واقف کرواتے ہوئے اس کے نیست و نابود ہونے کی بدعا کریں۔ یونائیٹڈ مسلم فورم کا اجلاس د و برس کے عرصہ کے بعد خانقاہ حضرت شاہ خاموش ؒ نامپلی میں منعقد ہوا‘ جس میں فورم کے ذمہ داران مولانا محمد رحیم الدین انصاری (صدر)‘ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری‘ مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری‘ مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی‘ مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم‘ جناب ضیاء الدین نیئر‘ مولانا سید شاہ ظہیر الدین علی صوفی قادری‘ جناب سید منیر الدین احمد مختار (جنرل سکریٹری)‘ مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری‘ مولانا سید مسعود حسین مجتہدی‘ مولانا سید تقی رضا عابدی‘ مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی‘ مولانا سید ظفر احمد جمیل حسامی‘ مولانا عبدالغفار خا ن سلامی‘ مولانا زین العابدین انصاری‘ ڈاکٹر مشتاق علی‘ ڈاکٹر بابر پاشاہ‘ جناب عمر احمد شفیق‘ جناب خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ‘ جناب سید قطب الدین حسینی‘ مفتی محمد عظیم الدین اور دوسروں نے شرکت کی۔

 

اجلاس میں کہا گیا کہ تریپورہ میں تباہی کے باوجود خاطیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی‘ ان واقعات پر آواز اٹھانے والے صحافیوں جہد کاروں اور مسلمانوں پر انسداد دہشت گردی قانون نافذ کردیا گیا۔ اترپردیش کے کاس گنج میں مسلم نوجوان کی پولیس تحویل میں شہادت ہوگئی۔ گڑگاوں میں سرکاری انتظامیہ کی اجازت کے باوجود نماز جمعہ کو روکنے کی اشتعال انگیزی کی جارہی ہے‘ شرپسندوں کے خلاف کاروائی سے گریز کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں سکریٹریٹ کی مساجد‘ عنبر پیٹ کی مسجد اور ایرپورٹ کی مسجد کی تعمیر نو کے بارے میں غیر ضروری تاخیر سے مسلمانوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے‘ حکومت  فوری طور پر مساجد کی تعمیر کے وعدہ کو وفا کرے۔ فورم نے معاشرہ میں پھیل رہی بے حیائی‘ اخلاق سوز حرکتوں اور قتل و غار ت گیری پر تشویش کی اظہار کیا۔ غیر ضروری طور پر خواتین اور لڑکیوں کے گھروں سے نکلنے سے روکنے اور معاشرہ کی اصلاح پر زور دیا۔

 

گھروں میں اسلامی ماحول کے فروغ‘ نمازوں کی پابندی‘ مساجد
کو آباد کرنے‘ نشہ کی لعنت کے خاتمہ‘ نئی نسل کی اسلامی تربیت کرنے کی خواہش کی۔ ریاست میں سرکاری اقلیتی ادارے حج کمیٹی‘ اردو اکیڈمی‘ فینانس کارپوریشن‘ اقلیتی کمیشن وغیرہ غیر کارکرد ہوگئے ہیں‘ جبکہ وقف بورڈ کی معیاد قریب الختم ہے‘ اس کی دوبارہ تشکیل کے لئے کم از کم دو ماہ عرصہ درکارہوتا ہے‘ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اقلیتی اداروں کو بحال کرے تاکہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے کام انجام دئیے جاسکیں۔ آئمہ و موذنین کے اعزازیہ کو بروقت جاری کرے۔ جناب عبدالمقیت قریشی سینئر ایڈوکیٹ کو فورم میں قانونی مشاورت کے لئے آج کے اجلاس میں شامل کرلیا گیا۔ اجلاس میں فورم کے ارکان مولانا محمد رحیم الدین انصاری اور جناب ضیاء الدین نیئر کی صحت یابی پر گلپوشی کی گئی اور فورم کے مرحوم ارکان مولانا اکرم پاشاہ تخت نشین اور مولانا صفی احمد مدنی کے سانحہ ارتحال پر دعائے مغفرت کی گئی۔مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری کی دعا پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button