جنرل نیوز

پریاگ راج میں دلت خاندان کا قتل اور عصمت دری کا واقعہ افسوسناک۔ ایس ڈی پی آئی

ؒلکھنو۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اتر پردیش کے صدر ڈاکٹر نظام الدین خان نے لکھنو میں واقع ریاستی دفتر سے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ اتر پردیش کے لال موہن گنج، تھانہ پھپاماؤ، ضلع پریاگ راج میں ایک دلت خاندان کے چار افراد کا بہیمانہ قتل اور سولہ سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک دلت خاندان کے چار افراد یعنی پھول چند(عمر 50سال)، اس کی بیوی مینو دیوی(عمر 45سال) بیٹی سپنا (عمر 17سال) اور بیٹے شیوا (عمر 13سال) کو ان کے گھر میں تیز دھار ہتھیار سے بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ مقتول کے لواحقین کا الزام ہے کہ لڑکی کو قتل کرنے سے قبل اجتمائی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ انتہائی ظالمانہ، شرمناک او رقابل مذمت ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اتر پردیش میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بے نقاب کرتا ہے۔ ریاستی حکومت مجرموں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ایسے مجرموں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی وجہ سے آئے دن ایسے ہولناک واقعات پیش آتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر ڈاکٹر نظام الدین خان نے مزید کہاہے کہ پریاگ راج میں قتل اور عصمت دری کا یہ لرزہ خیز واقعہ اتر پردیش پولیس کے کردار پر سنگین سوال اٹھا رہا ہے۔ متوفی کے لواحقین نے بتایا کہ ملزم اور متوفی کے خاندان کے درمیان پہلے سے ہی زمین کا تنازع چل رہا تھا جس پر مقتول کے اہل خانہ کو دھمکیاں دی گئیں اور حملہ کیا گیا، جس کی متوفی کے اہل خانہ نے پولیس کو شکایت کی لیکن بر وقت کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ مقتول کے لواحقین نے ان قتلوں کا ذمہ دار پڑوسی خاندان کو ٹہرایا ہے۔ نظام الدین خان نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی اس معاملے میں اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے اور جن لوگوں کے خلاف پولیس نے اجتماعی عصمت دری، قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے اور جو لوگ ْقصور وار ہیں انہیں سزا دی جائے۔ انہوں نے متوفی کے لواحقین کو مناسب مالی امداد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیز سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے علاقے کے لوگوں سے امن اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button