جنرل نیوز

خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگر ……  

 عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی 7895886868

حضرت ابوذر غفاریؓ نے ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، اے الله کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے، آپ نے فرمایا، میں تمہیں تقوی یعنی الله سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں، کیوں کہ تقوی تمہارے تمام (دینی ودنیاوی) امور واعمال کو بہت زیادہ زینت وآراستگی بخشنے والا ہے،انھوں نے کہاکہ مجھے کچھ اور نصیحت فرمائیے، آپ نے فرمایا، تلاوت قرآن اور ذکر الله کو اپنے لیے ضروری سمجھو، کیوں کہ یہ تمہارے لیے آسمان میں ذکر اور زمین میں نور کا سبب ہو گا،پھر انھوںنے عرض کیا کہ کچھ اور نصیحت فرمائیے، آپ نے فرمایا، طویل خاموشی کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیوں کہ خاموشی شیطان کو دور بھگاتی اور دینی امور میں تمہاری مدد گار ہوتی ہے۔مزید نصیحت کی طلب پر آپ نے فرمایا: بہت زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو، کیوں کہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کے نور کو کھو دیتا ہے ۔ اور نصیحت فرمانے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے فرمایا سچ بات کہو، اگرچہ وہ کڑوی ہو۔حضرت ابوذر ؓ کی مزید طلب پر آپ نے فرمایا خدا کے دین اور خدا کے پیغام کو ظاہر کرنے اور اس کی تائید وتقویت میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو۔ حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے کچھ اور نصیحت فرمائیے، آپ نے فرمایا، چاہیے کہ وہ چیز تمہیں لوگوں کے عیب(ظاہر کرنے) سے روکے جس کو تم اپنے نفس کے بارے میں جانتے ہو ( یعنی، تمہیں کسی کی عیب گوئی کا خیال آئے تو فوراً اپنے عیوب کی طرف دیکھو اور سوچو کہ خود میری ذات میں اتنے عیب ہیں تو میں دوسرے کی عیب گیری کیا کروں گا، تم خود اپنے عیوب ونقائص کی طرف متوجہ رہو، اور دوسروں کی عیب گوئی سے اجتناب کرو۔)“

صحابۂ کرام کی مقدس جماعت امت اسلامیہ کے لئے اللہ کی طرف سے یقیناً ایک بڑی نعمت ہے ،حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین زندگی کے مختلف مراحل میں امت کی مشکلات کا حل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کرکے پیش کردیا ہے ،امت مسلمہ پر ان قدسی صفات حضرات کا احسان عظیم ہے حضرت ابوذرغفاریؓ سے منقول مذکورہ بالا حدیث میں بھی اس وقت کے حالات میں مسلمانوں کے لئے بڑا اسوہ ہے جس کی روشنی میں راہ عمل متعین کرکے زمانے کی مشکلات اور الجھنوں سے بچ کر احکامات اسلام کی مکمل پاسداری کی جاسکتی ہے حضرت ابوذرؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نصیحت کی درخواست کی ہے تو آپ نے سب سے پہلے تقوی اختیار کرنے کو فرمایا ہے ،یعنی آدمی اپنے ہر قول و فعل میں حکم الٰہی کو پیش نظر رکھے اور اس کی تعمیل کرے ،تقوی کا یہی حاصل ہے ،اسی طرح ذکر اللہ اور تلاوت قرآن کی تاکید،فضول گوئی سے اجتناب،سچ بولنے کا التزام،دوسروں کی عیب گیری سے پرہیز اور اپنے عیوب پر نظریہ پانچ باتیں اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمائی ہیں اگر ان پر عمل کیا جائے اور ان پانچوں باتوں کو حرزِ جان بنا لیا جائے تو مشکلات و مصائب کا سلسلہ خود بخود رک جائے گا،زندگی میں سکون ہی سکون ہوگا

جب سر میں ہوائے طاعت تھی ،سرسبز شجر امید کا تھا

طاعت و انقیاد کی خوشگوار ہواؤں میں مراحلِ حیات طے کئے جائیں ،ان شاء اللہ امیدوں کا شجر سدا بہار ہوگا ۔

 

کہا جارہا ہے کہ زمانہ بہت ترقی کرگیا ہے ،شوشل میڈیا ،انٹر نیٹ اور موبائل فون کے ذریعہ مہینوں کے کام دنوں میں نمٹائے جارہے ہیں ، کہنے والے سچ کہہ رہے ہیں زمانہ یقیناً ترقی کرگیا ہے ،لیکن خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگرلبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نُمالے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ شوشل میڈیا کے کاندھے پر سوار ہوکر ترقی کے نام پر موبائل اور انٹر نیٹ نے فحاشی و عریانیت کا ایک بازار بھی گرم کررکھا ہے ،معاشرہ ناگفتہ بہ حالات سے دوچار ہے ، ’’تہذیب وثقافت ‘‘ کی ترویج واشاعت کے لیے اور اسے رواج دینے کے لیے سیٹیلائٹ اورجدیدمواصلاتی ٹکنیک کے تحت ’انٹرنیٹ‘ موبائل فون وغیرہ جیسے ذرائع کا استعمال کیا جاتاہے جو عام لوگوں تک جلد پہنچانے کے آسان ذرائع ہیں،پھرادب وثقافت کے نام پر اخبارات رسائل اور جرائدمیں مخرب اخلاق، عریاںاور فحش تصاویر کی بـھر مار اس تہذیب و ثقافت کو تمام گھروں سے لے کر دفتروں ،دکانوں اور کارخانوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں ،اس طرح کہ کوئی بھی نظر ان سے بچ کرنہیں رہ سکتی ۔دنیا کی دوسری قوموں کے شانہ بشانہ مسلمان بھی ان میںرچے بسے اور گھلے ملے ہوتے ہیں ،دوسری قوموں اور مسلمانوں میں کوئی فرق وامتیاز باقی نہیں ہے ،بلکہ مسلم ملکوں میں یہ وبائیں بہت سارے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ تیزرفتاری سے پھیلتی جارہی ہے۔ایسے میں ماحول اور معاشرہ کو کس انداز سے بچایا جائے اس پر غور و فکر تو کیا جارہا ہے لیکن اصل جو چیز عامل اورمحرک ہے اس پر نظر نہیں جاتی اس کا صرف اور صرف حل یہی ہے کہ ان جیسے منکرات کا استعمال ایک محدود دائرے میں ہی رکھا جائے ، اور اسلامی تعلیم یغضوا من ابصارہم یعنی جب تم کسی فحش اور منکر چیز کو دیکھو تو نگاہوں کو نیچی کرلیا کرو،اس کی تعلیم اپنے گھر گھرانے اور اولاد کو دیں، تعیشات اور سامان عیش و راحت جو خدا سے غافل کریں ان کو ہاتھ تک نہ لگائیں، ماحول اور معاشرہ کے ذمہ دار حضرات اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور فرمان نبوی الا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ پیش نگاہ ہو، یعنی ماحول اور معاشرے کا ہر بڑا فرد اپنے ماتحت کا ذمہ دار ہے اس ماتحت کی بے راہ روی کے بارے میں اسی ذمہ دار سے باز پرس ہوگی، اگر بچے مخرب اخلاق امورکے رسیا ہیں اور انہیں ان کی طرف شوق و رغبت ہے تو یقینا یہ ان کے بڑوں کی کمی اور احساس ذمہ داری کا فقدان ہے۔ شریعت اسلامیہ کی تعلیم ان جیسے منکرات کے بارے میں یہی ہے کہ ان کی طرف نگاہ غلط انداز بھی نہ ڈالی جائے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحول اور معاشرہ کو صالح بنایا جائے اور ان اسباب ومحرکات کا پوری ایمانی قوت کے ساتھ بائیکاٹ کیا جائے جو سماج اور معاشرہ میں گندگی پھیلا کر جرائم کو پنپنے کا موقع فراہم کرتے ہیں،موبائل فون آج کی زندگی کی ایک ضرورت بن چکا ہے ،لیکن اس کا استعمال بقدر ضرورت جائز حدود میں رہ کر ہی کیا جائے ،تاکہ معاشرہ کی صالح اقدار برقرار رہیں اور کہیں سے کوئی بگاڑ اورمعاشرے کی صالحیت میں کوئی فرق نہ آئے ۔اللہ کے رسول فداہ ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت سماج اور معاشرہ میں کتنی برائیاں عام اور رائج تھیں اور وہ یقیناً سماج و معاشرہ کے لیے ضرورت سمجھی جاتی تھیں مثلاً شراب، اور جوا لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حلت و حرمت پر مباحثہ اور مناقشہ کے بجائے کتنی حکمت عملی سے اس پر قدغن لگائی وہ تاریخ و سیرت کا ایک حصہ ہے اور ہمارے لیے اسوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

KHALID QASMI 7895886868

 

متعلقہ خبریں

Back to top button