جنرل نیوز

ویمن انڈیا موؤمنٹ نے لڑکیوں کی شادی کی عمر 21سال کرنے کی مخالفت کی اور قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا

دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) کی قومی جنرل سکریٹری محترمہ یاسمین اسلام نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جس میں لڑکیوں کی شادی کی عمر 18سے بڑھا کر 21سال کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اس وقت کیا جارہا ہے کہ جب لوگ لڑکوں کیلئے شادی کی عمر کو 21سے کم کرکے 18سال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

حیران کن بات ہے کہ لڑکیوں کی شادی کے عمر میں اضافے سے کیا ہوگا؟۔ اگر لڑکیوں کی صحت کو بہتر بنانا ہے تو شادی کیلئے عمر بڑھانا اس کا حل نہیں ہے، اس کیلئے انہیں غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرکے، بہتر حفظان صحت کے ماحول میں سہولت فراہم کرکے اور انہیں اچھی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنا ہوگا۔ اگر لڑکیوں کی آزادی کی فکر ہے تو یہ فیصلہ لڑکیوں کی آزادی کو 21سال کی ہونے تک روک دے گا۔ لہذا، نیا فیصلہ کسی بھی طرح سے لڑکیوں کی بہتری یا فلاح و بہبود میں مددگار نہیں ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں 21سال سے پہلے لڑکیوں کی قانونی شادی کی وجہ سے ملک میں فوجداری مقدمات میں اضافہ ہوگا۔ اگر یہ صنفی مساوات ہے جسے حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے، تو یہ بے وقوفی ہے، کیونکہ مرد اور عورت دونوں جسمانی، نفسیاتی اور حیاتیاتی طور پر مختلف ہیں، اور صنفی مساوات محض ایک خیالی سوچ ہے، عملی چیز نہیں۔ درحقیقت لڑکیاں ہی لڑکوں سے پہلے بلوغت کو پہنچ جاتی ہیں، اس لیے لڑکیوں کی شادی کی عمر کو 18سال سے بڑھا کر 21سال کرنے کی بجائے لڑکوں کی شادی کی عمر کو 21سال سے کم کرکے 18سال کردینا چاہئے، اور لڑکیوں کو موجودہ 18سال ہی شادی کی عمر رہنے دیا جائے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی جنر ل سکریٹری یاسمین اسلام نے مزید کہا ہے کہ اس قانون کا نفاذ مکمل طور پر غیر ضروری ہے جبکہ ملک ہر عالمی معاشی،سماجی اور صحت کے انڈیکس میں گررہا ہے جس میں بھوک، غذائیت کی کمی، بچوں کی اموات، زچکی کی شرح اموات وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت کو ملک میں ان حالات کو بہتر بنانے کو ترجیح دینی چاہیے۔ نہ کہ ایسے قوانین بنائے جن سے کوئی مثبت مقصد حاصل نہ ہو۔ لڑکیوں کی شادی کی عمر کو بڑھا کر 21سال کر نا مذکورہ بالا مسائل میں سے کسی کا حل نہیں ہے۔ شادی کی قانونی عمر میں اس وقت تک کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک کہ باقی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے۔ لڑکیوں کی شادی کی عمر 18سے بڑھا کر 21سال کرنے کا مطلب لڑکیوں کے 21سال کی ہونے تک ان کے حقوق پر مزید ظلم ہوگا۔ اس فیصلے کا تضاد یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں 18سال کی عمر میں ملک اور ریاست کے حکمرانوں کو منتخب کرنے والے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں اور ووٹ ڈال سکتے ہیں، لیکن اس عمر میں قانونی شادی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح، 18سال کی عمر میں ایک ساتھ رہنا غیر قانونی نہیں ہے، جو ہندوستانی ثفاقت میں ایک سماجی طور پر ناقابل قبول عمل ہے۔لیکن 18سال کی عمر میں شادی کرنا جرم ہے، یہ مضحکہ خیز ہے۔

ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی جنر ل سکریٹری یاسمین اسلام نے مطالبہ کیا کہ ملک میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کو پہلے حل کیا جائے اور اس مضحکہ خیز قانون کو منسوخ کیاجائے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button