November 21, 2018

ملک کے 91بڑے آبی ذخائرنے آبی ذخیرے کی سطح 67فیصد برقراررکھی

نئی دہلی ،9نومبر : 8نومبرم2018کو ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک کے 91بڑے آبی ذخائرمیں 107.883بی سی ایم پانی موجودتھا، جو ان آبی ذخائرمیں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 67فیصد کے بقدرتھا۔ یکم نومبر،2018کو ختم ہوئے ہفتے میں  اس کی فیصد بدستوررہی تھی ۔ جب کہ 8نومبر،2018کو ختم ہوئے ہفتے میں جمع شدہ پانی کی مقدار102فیصد اورپچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے میں 98فیصد تھی ۔

          اب بڑے آبی ذخائرمیں کل 161.993بی سی ایم پانی جمع کیاجاسکتاہے جو 257.812بی سی ایم کی گنجائش والے ان آبی ذخائرمیں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے بقدرہے ۔  ان  97آبی  ذخائرمیں37 ایسے آبی ذخائر  ہیں جن میں 60میگاواٹ سے زائد پن بجلی پیداکرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔

آبی ذخائرمیں جمع پانی کی خطہ وارصورتحال:

شمالی خطہ:

          ملک کے شمالی خطے میں ہماچل پردیش ، پنجاب اور راجستھان کی ریاستیں شامل ہیں ۔ سی وی سی کے تحت  ان ریاستوں میں 6بڑے آبی ذخائرواقع ہیں ، اوران میں 18.01بی سی ایم پانی جمع کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ سردست ان آبی ذخائرمیں 15.35بی سی ایم پانی موجود ہے ، جوان آبی ذخائرکے 85فیصد کے بقدرہے  ۔ گذشتہ دس سال کی اسی مدت کے دوران اس میں  پانی جمع کی گنجائش 71فیصد تھی ،جب کہ اسی مدت کے دوان اس کی  اوسط  مقدار 74فیصد کے بقدر رہی ۔ گذشتہ دس برسوں کے مقابلے رواں برس کے دوران یہ صورتحال کافی بہتررہی اورگزشتہ سال کے مقابلے اوسطادس برسوں کے  مقابلے میں بھی  بہتررہی ۔

مشرقی خطہ

          ملک کے مشرقی خطے میں جھارکھنڈاڈیشہ ، مغربی بنگال اورتریپورہ کی ریاستیں شامل ہیں ۔ ا ن ریاستوں میں 15بڑے آبی ذخائرواقع ہیں ۔سینٹرل واٹرکمیشن 18.83بی سی ایم پانی جمع کرنے کی کل گنجائش والے ان آبی ذخائرمیں موجود پانی کی صورتحال پرنظررکھتاہے ۔ سردست ان آبی ذخائرمیں 13.22بی سی ایم پانی  موجود ہے جو ان آبی ذخائرمیں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 70فیصدکے بقدر ہے ۔ پچھلے برس کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی مقداران کی کل گنجائش کے 74فیصد کے بقدرتھی ۔جبکہ رواں سال میں گذشتہ سال کے مقابلے اس کی مقدارکم تھی جب کہ پچھلے دس سالوں کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے میں ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی مقدارکم رہی تھی ۔

مغربی خطہ

          ملک کے مغربی خطے میں گجرات اور مہاراشٹرکی ریاستوں واقع ہیں ۔ان ریاستوں میں 27بڑے آبی ذخائرشامل ہیں ۔ سینٹرل واٹرکمیشن ان آبی ذخائرمیں 31.26بی سی ایم پانی جمع کرنے کی مجموعی گنجائش والے ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی صورت حال پرنظررکھتاہے ۔ سردست ان آبی ذخائرمیں 16.52بی سی ایم پانی موجود ہے جو ان میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 53فیصد کے بقدرہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی مقدار69فیصدکے بقدررہی جب کہ گزشتہ دس برسوں کی  اوسط مدت کے دوران  66فیصد کے بقدررہی تھی ۔ اس طرح جاری سال کے دوران ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی مقدرپچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے کم اورپچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے بھی کم رہی ۔

وسطی خطہ

          ملک کے وسطی خطے میں اترپردیش ، اتراکھنڈ ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی ریاستیں شامل ہیں ۔ ان ریاستوں میں 12بڑے آبی ذخائرشامل ہیں ۔ سنٹرل واٹرکمیشن 42.30بی سی ایم کی کل گنجائش والے ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی مقدارپرنظررکھتاہے ۔ سردست ان آبی ذخائرمیں 30.47بی سی ایم پانی موجود ہے جوان میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش 74فیصد کے بقدرہے ۔اورپچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی مقداران میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 64فیصد کے بقدرتھی جب کہ گذشتہ دس برسوں کی اسی  مدت کے اوسط کے دوران ان آبی ذخائرمیں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 65فیصد کے بقدرتھی ۔جب کہ گذشتہ دس برسوں کی اسی مدت کے اوسط میں ان آبی ذخائرمیں جمع پانی کی مقدارکی گنجائش کم رہی ۔

          ہماچل پردیش ، پنجاب ، راجستھان ، اترپردیش ، اتراکھنڈ ، مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ، کرناٹک ، کیرالا، اور تمل ناڈو کی ریاستوں میں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں آبی ذخائرمیں پانی جمع کرنے کی گنجائش بہتررہی ہے جب کہ جھارکھنڈ ، اڈیشہ، مغربی بنگال ، گجرات اور مہاراشٹر، آندھراپردیش اور تلنگانہ (دونوں ریاستوں کے پروجیکٹوں کی مجموعی صورتحال ) گذشتہ برس کے مقابلے کم رہی ہے ۔

Post source : pib