September 23, 2019

طلاقِ ثلاثہ: حزبِ اقتدار کی ذہنی سطحیت!

طلاقِ ثلاثہ: حزبِ اقتدار کی ذہنی سطحیت!

محمد شعیب غازی،بلندشہر،اترپردیش

shuaibghazi1640@gmail.com

 ٣٠/جولائی ٢٠١٩ء تاریخِ ہند کا’یومِ سیاہ’تھا.کیونکہ اسی روز، حزبِ اقتدار’ طلاقِ ثلاثہ ترمیمی بل ٢٠١٩ء ‘ کو دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی. صدرِ جمہوریہ (عزت مآب جناب رام ناتھ کووند) کے دستخط کے ساتھ ہی یہ بل، قانونی طور پر نافذ العمل ہوجائے گا.

   بی جے پی کی پچھلی میقات میں’طلاق ثلاثہ ترمیمی بل ٢٠١٩ء’ ایوانِ زیریں میں دو بار منظور ہوا. ایوانِ بالا میں دونوں مرتبہ کوڑے دان کی نذر ہوا. بری طرح ناکام ہوا اور وہیں یہ بل،قانونی پیچیدگیوں سے بھی بھرا ہوا ہے. 

    ایوانِ زیریں میں دایاں بازو مضبوط دعویدار ہے. ایوانِ بالا میں بایاں بازو کے ارکان کی اکثریت ہے. بی جے پی کی دوسری میعاد میں ایوان بالا میں’طلاق ثلاثہ بل’پر برائے نام بحث تو ہوئی. لیکن،ساحرانہ طور پر حزبِ اختلاف کو اپنا ہمنوا بنا لیاگیا.اس جادوگری کو اتنی کمالِ ہوشیاری سے انجام تک پہنچا یا گیا کہ کانوں کان کسی کو خبر تک نہ ہوئی.افسوس! کہ حزبِ اختلاف کی نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے اہلِ اقتدار کو قانون سازی میں اپنا تعاون بڑے ادب و احترام کے ساتھ تھالی میں رکھ کر پیش کیا.

     تین طلاق کی موافقت و مخالفت کی رائے دہی کے دوران، درج ذیل نام نہاد سیکولر پارٹیاں ایوانِ بالا سے غائب تھیں:

      کانگریس،این سی پی،سماج وادی پارٹی،بی ایس پی،ٹی ایم سی،ٹی ڈی پی،ڈی ایم کے،سی پی ایم،پی ڈی پی_ محبوبہ مفتی_ ، دل کو ہاتھوں میں تھام لیں! ایسا نہ ہو کہ وہ ڈھرکنا ہی چھوڑدے! یوپی کی مسلم برادری کے عظیم مسیحا،سماج وادی پارٹی کی قدآور شخصیت جناب اعظم خان_رام پور_ کی شریکِ حیات ‘تنظیم فاطمہ’بھی ایوانِ بالا سے غیر حاضر تھیں. شاید ایسے ہی موقع پر شاعر نے کہا تھا:

 

   چو کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی

 

   خدا جانے کہ انہوں نے برضاو رغبت ایسا کیا یا سیاسی اضطرار آڑے تھا؟ بقول غالب:

    

        کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے 

 

   حقیقی تصویر یہ ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی بے حسی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے بی جے پی (وزیر اعظم نریندرمودی، وزیر داخلہ امت شاہ)کی راہ آسان ہوئی ہے. گوکہ کچھ لوگوں پر حکومت کے خلاف موقف اختیار کر نے کی بنا پر شاہی عتاب نازل ہوا ہے.

     مجوزہ قانون کی رو سے جو مسلمان ایک نشست میں اپنی زوجہ کو تین طلاق دے گا اس کو کم از کم تین برس کی سزا ہوگی. قانون کی اس شق سے پردہ نہیں اٹھایا گیا کہ زوجین میں علاحدگی ہوئی یا نہیں؟ اگر علاحدگی نہیں ہوئی تو اس صورت میں جرم ہی کا صدور نہیں ہوا تو پھر سزا کس کی؟ اگر علاحدگی ہوگئی تو شوہر کی غیر موجودگی میں اہل و عیال کا نان ونفقہ اور دیگر اخراجات کون برداشت کرےگا ؟ حکومتی یا سماجی ادارہ؟ یا کاسۂ گدائی اس گھرانے کو تھما دیا جائے گا؟ اس شق کو بھی پردۂ خفا رکھا گیا کہ اگر زوجین میں نباہ نہ ہو سکے تو جدائی کی کیا صورت ہوگی؟ 

     تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ٢٣/ لاکھ ہندو عورتوں کو ان کے شوہروں نے طلاق دىے بغیر ہی چھوڑدیا ہے. در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں. سماج میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے. ہندو عورت کو شادی سے آزادی ملنے میں ایک عرصہ بیت جاتا ہے. آخر قانون ساز اداروں کو ایسی عورتوں کی فکر کیوں نہیں؟ جرم ایک جیسا،یکساں سزا کا التزام کیوں نہیں؟ یہ امتیازی سلوک کس بنیاد پر؟ یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ مسلم خواتین کو تحفظ کی فراہمی حکومت کے منشور میں داخل نہیں بلکہ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل اندازی مطمحِ نظر ہے. یہ کیسا معاشرہ ہے جس میں زندگی کا پیمانہ ہی بدل دیا گیا ! 

     اسلام کی نظر میں طلاق ثلاثہ بد ترین عمل ہے _ گوکہ طلاق واقع ہو جاتی ہے_ . ناپسند یدہ فعل کے تئیں قانون کی توضیع بیہودگی کا بین ثبوت ہے. سرکاری خزانے کو برباد کرنے کے مترادف ہے.تعجب ہے! کہ سماج کا وہ طبقہ جو زبانِ عرب کے حروفِ تہجی سے بھی نابلد ہے اس نے تحفظِ حقِ نکاح کا بیڑا اٹھایا ہے!

    طلاقِ ثلاثہ کے ماسوا ہزارہا مسائل ہیں جو منہ پھاڑے کھڑے ہیں. حکمراں طبقہ نے ہجومی تشدد پر قدغن لگانے کے لئے کچھ اقدامات کیے؟ کبھی غور کیا کہ چند عناصر اس قدر بے لگام کیونکر ہو گیے؟ کبھی بے روزگار مسلمانوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا خیال آیا ؟ مسلم اقلیت کی تعلیم کے معقول انتظامات کیے؟ بالجبر عصمت دری کے مرتکب کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کتنا سنجیدہ ہے ؟ سبری مالا مندر_کیرالا_ میں عورتوں کے دخول کو کیوں عقیدہ کے ساتھ جوڑا جارہا ہے؟ یہاں صنفی مساوات کیوں نہیں؟ آخر ! طلاق ثلاثہ کو ہی کیوں اہم تصور کیا جا رہا ہے؟ قومی جمہوری اتحاد ‘طلاق ثلاثہ’ کو فرسودہ روایت، دقیانوسیت کس لیے مان رہا ہے؟ ذہن میں ایسے ہزاروں سوالات کا سیلاب امڈ آیا ہے جن کے جوابات از حد ضروری ہیں اور انہیں سوچ کر عقل بھی ماؤف ہوئی جارہی ہے. دیکھیے ! خود غرضانہ سیاست اور کیا گل کھلاتی ہے!

Post source : Urduleaks