October 23, 2019

بھگوا ملزمین کی مقدمہ سے خلاصی کی عرضداشت پر فوری سماعت سے ہائیکورٹ کا انکار

بھگوا ملزمین کی مقدمہ سے خلاصی کی عرضداشت پر فوری سماعت سے ہائیکورٹ کا انکار
Photo Credit To file

ممبئی 9 اکتوبر(پریس نوٹ) مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کا سامنا کررہے بھگوا ء ملزمین کو آج اس وقت مایوسی ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے ان کی جانب سے مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت پر بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کی مخالفت کے بعد سماعت ملتوی کردی۔بم دھماکہ ملزمین جس میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہیت اور سمیر کلکرنی شامل ہیں کی جانب سے داخل مقدمہ سے خلاصی کی عرضداشت کو ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس سوریہ ونشی نے فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا اور معاملے کی سماعت دیوالی کی تعطیلات کے بعد یعنی کے 18 نومبر سے شروع کیئے جانے کا حکم دیا۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
انہو نے بتایا کہ آج جیسے ہی سوا تین بجے معاملہ ہائی کورٹ میں سماعت کے لیئے پیش ہوا بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں نچلی عدالت میں ابتک 127 گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں اور ملزمین کی مقدمہ سے خلاصی کی درخواست کو نچلی عدالت نے مسترد کردیا ہے لہذا آج ملزمین ہائی کورٹ میں داخل عرضداشت پر بحث کرنا چاہتے ہیں جس پر فوری سماعت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو سوال انہوں نے عرضداشت میں اٹھایا ہے اسے نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ نے ماضی میں خارج کردیا تھا۔
گلزار اعظمی نے کہاکہ بی اے دیسائی نے عدالت کو مزید بتایا کہ این آئی اے کی اضافی چارج شیٹ میں این آئی اے نے اسے مقدمہ سے کلین چٹ دے دی ہے لیکن نچلی عدالت نے اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کی روشنی میں اس کے اور دیگر ملزمین کے خلاف چارج فریم کردیا ہے جسے ملزمین نے چینلج کیاہے لیکن بجائے مقدمہ کا سامنا کرنے کے ملزمین چاہتے ہیں کہ انہیں این آئی اے کی تازہ فرد جرم کا فائدہ ملے اور انہیں مقدمہ سے ڈسچار کردیا جائے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم کرنل پروہیت نے ہائی کورٹ میں مقدمہ سے ڈسچار ج کے ساتھ ساتھ یو اے پی اے کے اطلاق کو غیر قانونی قرار دینے کی عرضداشت بھی داخل کی ہے لیکن اس سوال کو ممبئی ہائی کورٹ نے پہلے ہی خارج کردیا ہے لہذا امید ہے کہ عدالت ملزم کی عرضداشت کو ایک بار پھر خارج کردیگی اور ملزمین کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوران کارروائی ایک جانب جہاں ملزمین کی جانب سے ایڈوکیٹ نتن پردھان، ایڈوکیٹ جے پی مشراء، ایڈوکیٹ ششی کانت شیودے، ایڈوکیٹ پرشانت مگو و دیگر موجود تھے وہیں بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ فرزانہ ساونت، ایڈوکیٹ ادبیہ خان، ایڈوکیٹ عادل شیخ، ایڈوکیٹ کریتیکا اگروال ودیگر موجود تھے۔

Post source : press note