June 01, 2020

نبی کا نام لیکر خلافِ شَرَعْ کام اور بدعات و خُرافات انجام دینا گناہِ عظیم ہے

 

 8/ نومبر 2019 بروز جمعہ قبل از جمعہ بمقام مسجد زم زم کشمیر گڈہ  کریم نگر(تلنگانہ) بعنوان “ماہ ربیع الاول اور ہمارا معاشرہ “خطیب بے باک ، شعلہ بیان مقرر “حضرت مولانا خواجہ کلیم الدین صاحب اسعدی مد ظلہ العالی”ناظم جامعہ صدیقیہ فیض العلم کریم نگر ونائب صدرجمعیةعلماء تلنگانہ و آندھرا کا ایمان افروز خطاب ہوا – جس میں مولانا نے قرآن وحدیث کی روشنی میں صحابہؓ کرام کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرات صحابہؓ کرام کا ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط تھا، صحابہؓ کرام زندگی کے ہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور ہر وقت احکام و مسائل کے نازل ہونے کے انتظار میں اور اس پر عمل کرنے کے سلسلہ میں بے چین رہتے تھے مگر صحابہؓ نے کبھی عید میلاد النبی ﷺ کا اہتمام نہیں کیا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی صحابہؓ کرام ایک سو سال تک موجود تھے اس کے بعد تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین، اور بزگان دین کا دور آیا ، مگر کسی نے میلاد النبی ﷺ کا نہ اہتمام کیا نہ عید میلاد النبی کی نماز پڑھی، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر، عید الاضحی اور مقدس راتوں میں عبادت کا حکم فرمایا ہے ، نیز مولانا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس امت کی خاطر طائف میں پتھر کھانا، قدم مبارک کا لہو لہان ہونا ، غزوہ ٔ احد میں چہرۂ انور کا زخمی ہونا، دندان مبارک کا شہید ہونا وغیرہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتلایا کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پیدائش سے وفات تک زندگی گزارنے کا ہر ہر طریقہ،چھوٹی سی چھوٹی بات ہم تک پہنچا دی ، تو ولادت کے منانے کی بات ہم سے کیوں نہیں فرماتے ؟ یاد رکھیں اسلام میں نہ کسی چیز کو گھٹایا جاسکتا ہے اور نہ بڑھایا جاسکتا ہے، اسلام وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول بتلائے، اس کے علاوہ “جہالت” ہے ، ماہ ربیع الاول جلسے جلوس اور نعروں کا مہینہ نہیں ہے بلکہ اس مہینہ میں خصوصاً درود شریف کا اہتمام کیا جائے، جس کی بہت بڑی فضیلتیں ہیں، مولانا نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ نوجوان اپنے کردار کو درست کریں، اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کریں، اللہ کے حقوق ادا کریں، حضورﷺ سے محبت قول و عمل دونوں طریقہ پر ادا کرے، مختلف جگہوں اور چوراہوں پر جلسے جلوس منعقد کرکے لوگوں کو راستہ روک کر تکلیف دینا، فضول خرچی کرنا، میوزک اور ڈی جے لگانا وغیرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کے خلاف ہے، اور اسلام اس طرح کے کاموں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا،جبکہ ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں جس کا ادنیٰ درجہ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے- گویا آج مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ ہر لمحہ “لمحۂ فکریہ” بنا ہوا ہے ، مولانا نے خطاب کے آخر میں قیامت کی منظر کشی کرتے ہوئے اور فکر آخرت، حساب وکتاب کا احساس دلاتے ہوئے درد بھرے انداز میں کہا کہ مسلمان غیروں کے طریقوں کو اپنانے سے گریز کریں، نیز نبی کا نام لیکر خلاف شرع کام اور بدعات و خرافات انجام دینا گناہ عظیم ہے –

Post source : Press release