July 15, 2020

طنزیہ نگاری کے بے تاج بادشاہ مجتبیٰ حسین

طنزیہ نگاری کے بے تاج بادشاہ مجتبیٰ حسین

 

 

شرف الدین عظیم الاعظمی

 

معاشرے کی تعمیر وتزئین ، اس کی اصلاح وتہذیب اور سماج کے عروج وارتقاء میں ادب کی جہاں اور بہت ساری اصناف نے اہم کردار ادا کیا ہے وہیں طنز و مزاح کی صنف نے بھی اس حوالے سے نمایاں نقوش ثبت کئے ہیں، ادب میں طنزیہ و مزاحیہ نثر کی عمر بہت طویل نہیں بلکہ نسبتاً بہت مختصر ہے باوجود اس کے ادبی خدمات اور نثری سرمایے کی وسعت کے اعتبار سے نمایاں مقام اور حیثیت رکھتی ہے، غالب کے بعد اردو نثر میں جن ادیبوں نے اس صنف کو وسعت دی ہے ان میں سید سجاد حسین ،سرشار، عبدالماجد دریابادی،

پطرس بخاری،شوکت تھانوی،ملارموزی ،مرزا فرحت اللہ بیگ،عظیم بیگ چغتائی،رشید أحمد صدیقی لال کپور،کرشن چند وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں، بیسویں صدی میں مشتاق احمد یوسفی نے پاکستان میں اور مجتبیٰ حسین نے ہندوستان نے طنزیہ و مزاحیہ نثری نگاری کو اپنی لازوال تخلیقات سے نہ صرف یہ کہ اس اسلوب میں بانکپن پیدا کیا،اور اسے عالمی سطح پر فروغ دیا،بلکہ زندگی کے تمام موضوعات پر گراں قدر تحریروں سے اسے اردو ادب میں استحکام عطا کرکے فن کی حیثیت بھی دے دی،  

 

طنز کی ادب میں وہی اہمیت ہے جو تنقید کی،جس طرح تنقید کا مقصد معاشرتی برائیوں سے پردہ اٹھانا ہے’ٹھیک اسی طرح طنز بھی اس کے برے پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے’تاہم نسبتاً طنز میں شدت اور تلخی ہوتی ہے اس کے نشتر تیز اور نوکیلے ہوتے ہیں باوجود اس کے قاری کا ذہن اس اسلوب کو کھلے دل سے اس لیے گوارا کرتا ہے کہ طنز نگار اپنے احساسات کو اور اپنے تجربات کو سپاٹ لہجے میں تنقید کی طرح پیش نہیں کرتا ہے’بلکہ اس میں مزاح کا رنگ بھر کر اسے دلچسپ بناتا ہے’، طنز کی تلخیوں اور شدتوں کو دلکشی اور چاشنی کی مدد سے ہلکا کردیتا ہے یہاں تک کہ اس کی زہرناکیاں اور نشتروں کی تیزی اس طرح مدھم ہو جاتی ہیں کہ مزاح کی ظریفانہ فضا میں قاری کو کبھی کبھی اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ہے’، 

 

مجتبیٰ حسین نے اپنی تحریروں میں اسی تیکنیک کا استعمال کرکے معاشرے کے پست کرداروں پر طنز کا نشتر چلایا ہے’ زندگی کی سچائیوں کو اجاگر کیا ہے’، مفاد پرستانہ مزاج پر تیشے چلا ئے ہیں، انھوں نے روز مرۃ کے معمولی سے معمولی واقعات کو بھی گہرائی سے دیکھا ہے’،خود غرضی ومفاد پرستی کا مشاہدہ کیا ہے’،اہل اقتدار کی متعصبانہ روش اور ان کے کرداروں کو قریب سے دیکھا ہے’، عصبیت کے نتیجے میں شرمسار انسانیت، لٹتی عصمتوں،اجڑتے اور ویران ہوتے گھروں کو دیکھا ہے’، انسانیت کی بے بسی پر سماجی قہقہوں اور اہل ثروت کی بے حسی کا مشاہدہ کیا ہے’، اور پھر ان غیر فطری مناظر اور سلگتی ہوئی صبح وشام کی اپنے مخصوص ظریفانہ طرزِ ادا میں تصویر کشی کی ہے

 اور سیاہ کرداروں پر بے لاگ نشتر زنی کی ہے’، لیکن اس انداز اور اسلوب میں کہ کہیں بھی سوقیانہ پن کا گذر نہیں ہوسکا،ان کی تمام تخلیقات طنزیہ ادب کا شاہکار ہیں وہ نہایت خاموشی سے لطیف پیرائے میں اپنی بات کہ جاتے ہیں، اس طرح کہ کہیں تمسخر،استہزا،پھکڑپن کا احساس نہیں ہوتا،انکی تحریریں صرف تفریح طبع کے لئے اور محض ضحک پیدا کرنے کے لئے نہیں ہوتی ہیں بلکہ ان میں ایک پیغام ایک سبق،ایک احساس، پای پایا جاتا ہے’ جس میں فکر کی روشنی بھی ہوتی ہے’بصیرت کی کرن بھی،شعور کی تیز آنچ بھی ہوتی ہے’اور جذبات کی گرمی بھی، ان کی نگاہوں میں سماج کا کوئی پہلو اوجھل نہیں رہتا ہے’ وہ زندگی اور اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات بہت گہری نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اپنے لہجے کی رنگین فضا میں شگفتہ ریز جملوں اور طرح دار اسلوب میں پیش کرکے ماحول میں تبسم کی کرنیں بکھیر دیتے ہیں ان کے ایک مضمون بعنوان،،ہم طرفدار ہیں غالب کے سخن فہم نہیں،، کا ایک اقتباس ابتسام کے پردے میں اس طرح نشتر زنی کرتا نظر آتا ہے،،ایک صاحب سے پوچھا گیا کہ قبلہ،ضروریات زندگی میں کون کون سی اشیاء شامل ہوتی ہیں،انھوں نے کہا۔کھانا ،کپڑا، مکان،غالب،اور دیوان غالب،، صاف ظاہر ہے کہ یہ صاحب غالب کے طرفدار تھے کہ خود غالب کی ذات کو،دیوان غالب سے جدا کرنے پر تلے ہوئے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ ان صاحب نے غالب سے اپنی طرفداری جتانے کے لئے،،کلیات میر،،

 پر بھی دیوان غالب کا ٹائٹل چڑھا رکھا ہے’اور محض ٹائٹل کے دھوکے میں میر کے کلام کو بھی غالب کا کلام سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں قطع کلام کرنے کا کوئی موقع عنایت نہیں کرتے

 کیونکہ ان صاحب کی نظر میں اردو شاعری نے صرف ایک ہی شاعر پیدا کیا ہے اور وہ ہے غالب،

 ان سے ایک بار پوچھا گیا کہ جناب والا۔اردو کے تین بڑے شعراء کے نام بتائیے،موصوف نے کہا تھا: غالب، مرزا غالب،اور مرزا اسداللہ خان غالب،اس پر ہم نے فرض کرتے ہوئے کہ آگے ان کی دال نہ گلے گی ،پوچھا کہ اب لگ ہاتھوں چوتھے بڑے شاعر کا نام بھی بتائیے تو کہنے لگے:نجم الدولہ، دبیر الملک مرزا اسداللہ خان بہادر نظام جنگ غالب۔(تکلف برطرف نیشنل بک ڈپو حیدرآباد)

 

آزادی کے بعد فسادات ہندوستان کا مقدر ہوچکے ہیں ہر قلم کار اور کالم نگار نے اس پر اپنی تحریروں کی شکل میں آنسؤوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ایک ایسا طنز نگار جس کی نظر معاشرے کے معمولی کرداروں تک کو تلاش لیتی تھی ممکن نہیں تھا اس قدر بھیانک سانحے اس کے فن کا موضوع نہ بنتے سو انھوں نے بھی اپنے مخصوص انداز میں اپنے احساسات کو لفظوں کی شکل دی مگر شگفتہ بیانی کی تمام خوبیوں کے ساتھ اس ماحول پر اس طرح عمل جراحی کی ہے’ کہ فسادات کی تمام حشر سامانیاں بے نقاب ہوکر رہ گئی ہیں انھوں نے ذو معنیٰ الفاظ، نظر سے روح تک اتر جانے والی اور لبوں پر روشنی پھیلانے والی تبسم ریز ظرافت کے ساتھ دلوں میں احساسات کے چراغ جلانے والی تعبیرات وتشبیہات کا استعمال کرکے غیر انسانی روئیے پر کاری ضرب لگائی ہے’فسادات کے متعلق ان کے ایک مضمون کا یہ اقتباس یقیناً اس بات کی تصدیق کریگا ،،اگر آپ خالص فسادات دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہندوستان ہی جائیے یہاں کے فسادات اتنے خالص ہوتے ہیں کہ ان میں کہیں بھی انسانیت کی ملاوٹ نہیں ہوتی۔اس صفائی سے انسانوں کے سر کاٹے جاتے ہیں اور ان کے جسموں میں چھرے بھونک دئیے جاتے ہیں کہ عقل حیران اور نظر دنگ رہ جاتی ہے’مجھے بتایا گیا کہ فرقہ وارانہ فساد ہندوستان کا بڑا قدیم کھیل ہے ( قطع کلام مجتبیٰ حسین،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی صفحہ 57)

 

       مجتبیٰ حسین صاحب کے تخلیقی شعور،ان کے افکار و خیالات کی وسعت و گہرائی، ان کے فنی شعور کے ارتقاء، ان کے اسلوب کی دلکشی ورعنائی، اظہار بیان پر ان کی قدرت،ان کے انفرادی لہجے کے بانکپن اور ارتقاء کی طرف ان کی تیز گامی، ان کے مفکرانہ رجحانات، ان کی انشائیہ نگاری میں کمالات اور

       زبان وبیان پر ان کی دسترس اور ان کی تحریروں میں تخلیقیت کی قوت کو دیکھ کر اردو ادب کے مشہور ادیب و نقاد شمس الرحمن فاروقی نے ذیل کے ان لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا ہے،، جب میں نے مجتبیٰ حسین کی تحریریں پڑھی تھیں تو ان کی نثر کی چستی اور بھونڈے اچھل کود والے لطیفوں اور فقروں سے ان کے اجتناب کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا تھا کہ اعلی مزاحیہ تحریروں کا گھر جو ایک عرصے بند پڑا آہستہ آہستہ کھل رہا ہے’،، فاروقی صاحب کو اپنے مشاہدات کی روشنی میں یہ اندیشہ تھا کہ جس طرح ماضی میں متعدد ادیبوں نے شہرت حاصل کرکے اپنے اہم نصب العین سے کنارہ کشی اختیار کرلی یا عدم توجہ کے باعث کسی اہم کارنامے کو انجام دینے سے محروم ہو گئے مجبتی حسین بھی کہیں اس روش کا شکار نہ ہوجائیں چنانچہ وہ لکھتے ہیں،،مجتبی حسین کے بارے میں مجھے یہ خوف کئی سال تک رہا کہ یہ چمک دمک یہ آن بان کہیں چار دن کی چاندنی نہ ہو، میں نے ان کی ہر تحریر کو

       اور بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی اور ملاقاتیں ہونے لگیں تو خود ان کو اسی غور اور شوق اور تشویش سے دیکھا جس غور اور شوق اور تشویش سے کوئی ماہر نباتات کسی ایسے پودے کو دیکھتا ہو جس کا دنیا میں صرف ایک نمونہ ہو اور جس پر اس پودے کی تمام نسل کے قیام و استقلال کا دارومدار ہو، وہ جس طرح ہر ہر پتی

       ڈالی کی ہر نوک اور پھنگی کو توجہ سے دیکھتا ہے کہ کہیں مرجھا تو نہیں رہی ہے،کمزور تو نہیں پڑ رہی ہے۔اس طرح مجتبیٰ حسین اور ان کی تحریروں کو دیکھتا تھا کیونکہ مجھے یقین ہی نہ آتا تھا کہ ایسا طرح دار مزاح نگار دس پانچ برس کے بعد بھی ترقی کرتا رہے گا، کیا معلوم ہمارے بزرگ مزاح وطنز نگاروں کا بھونڈا پن،ان کا مسخرا پن،ان کی تلملاتی ہوئی جھنجھلاہٹ اس پر کب اثر انداز ہوجائے،لیکن مجتبیٰ حسین نے میں ہی کیا مجھ سے بہتر لوگوں کو بھی حیرت میں مبتلا رکھا (مجلہ چہار سو راولپنڈی پاکستان مجتبیٰ حسین نمبر جنوری فروری 2015 بحوالہ برقی میڈیا)  

مجبتی حسین نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ تحریروں سے جہاں معاشرے کے تقریباً تمام کرداروں کی تصویر کشی کی ہے سماج کے منافقانہ چہرے سے اپنے تلخ مگر دلآویز طنز سے نام نہاد صداقت کا پردہ ہٹایا ہے’، وہیں انہوں نے اپنی ادب و انشا،کے تمام محاسن، اور زبان و بیان کی ساری خوبیوں سے بھر پور تخلیقی سرمایہ کے ذریعے اردو نثر کے جہان کو وسعت بخشی ہے’، انھوں نے نصف صدی تک دشت ادب میں آبلہ پائی کی اور اس کے نتیجے میں سیکڑوں معلوماتی جواہر پارے اور نثری ادب کے شاہکار گوہر و الماس دریافت کرکے اردو زبان کو مالا مال کیا ہے ،اس وقت طنزیہ و مزاحیہ نثر میں پورے برصغیر میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ،ان کے قلمی سفر میں ہزاروں مضامین وجود میں آئے اور مختلف موضوعات پر مشتمل مضامین کے بائیس مجموعے منظر عام پر آئے ۔

 

مجتبیٰ حسین 15جولائی1936کو گلبرگہ میں پیدا ہوئے 1956میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے گریجویشن کیا ادب سے دلچسپی فطرت میں شامل تھی چنانچہ آغاز شعور سے ہی قرطاس وقلم سے رشتہ قائم ہوگیا لیکن باضابطہ قلمی سفر کا آغاز روز نامہ سیاست سے ہوا اس کے بعد سے قلم کی رفتار کسی مرحلے میں آہستہ نہیں ہوئی ساتھ ساتھ معاشی مشاغل اور ملازمتیں بھی ہم رشتہ رہیں، عثمانیہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد 1962میں محکمہ اطلاعات میں ملازمت کا آغاز کیا،1972میں ریسرچ سینٹر دہلی سے وابستہ ہوئے اور مختلف النوع ملازمتوں سے وابستگی کے بعد 1992میں ریٹائر ہوئے، ان کی طویل ادبی وعلمی خدمات کو ملک وبیرون ملک میں سراہا گیا شوق کی نگاہوں سے پڑھا گیا، ملک کے اہم علمی ادبی سرکاری وغیر سرکاری اداروں نے

انہیں اعزازات سے نوازا جن میں خاص طور سے 1982میں ،،غالب ایوارڈ برائے طنز و مزاح،غالب اکیڈمی،1998میں کل ہند مہندر سنگھ بیدی منجانب ہریانہ اردو اکادمی، 1990میں تخلیقی نثر کا سب سے بڑا ایوارڈ،ایوارڈ برائے تخلیقی نثر،،منجانب اردو اکیڈمی دہلی، 2001میں کل ہند ایوارڈ برائے مجموعی خدمات،منجانب کرناٹک اردو اکیڈمی۔ 2003میں جوہر قریشی ایوارڈ از مدھ پردیش اردو اکیڈمی۔۔ 2001میں مہاراشٹر حکومت کی طرف سے اردو ساہتیہ اکادمی وغیرہ شامل ہیں ، 2007میں حکومت ہند کی طرف سے مجتبیٰ حسین کی طویل ادبی خدمات کے اعتراف میں اپنے ایک اعلی ایوارڈ پدم شری سے سرفراز کیا، لیکن دور حاضر کی متعصبانہ روش پر چلنے والی

حکومت کے فرقہ وارانہ روئیے سے دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے اس ایوارڈ کو احتجاجاً واپس کردیا، یہ ان کی اس ملک اور اس کی جمہوریت اور قوم سے سچی محبت کا نہایت واضح اور روشن نمونہ ہے حالانکہ یہ ملک کے پہلے ادیب وانشا پرداز تھے جنھیں اس قدر عظیم اعزاز سے سرفراز کیا گیا تھا

اردو دنیا کے تمام گوشوں کو اپنی ادبی شعاعوں سے نصف صدی تک منور کرنے والا ادب وانشا کا یہ سورج 27مئی 2020کو تلنگانہ میں غروب ہوگیا

 

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

امام وخطیب مسجد انوارشواجی نگر

8767438283

 

 

 

Post source : Sharfuddin azeem