August 04, 2020

گلبرگہ کے کہنہ مشق شاعر معین محمود کوانجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کاخراج عقیدت

گلبرگہ کے کہنہ مشق شاعر معین محمود کوانجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کاخراج عقیدت

گلبرگہ-6 جولائی ( پریس ریلیز) شہر گلبرگہ کی معزز شخصیت اورکہنہ مشق شاعر معین محمود اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔انہیں شعروادب کاشغف اورغیرمعمولی دلچسپی اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی رہی۔انہوں نے اپنی کم عمری میں ہی مشاعروں میں شرکت کرکے اپنی شعری وادبی صلاحیتوں کونہ صرف منوایا بلکہ سامعین اورقارئین کواپنی طرف متوجہ کیا۔جہاں ان کی طبیعت میں غیرمعمولی شعر وادب سے رغبت ووابستگی تھی وہیں مزاج میں غیرمعمولی صوفیانہ پن بھی بدرجہ اتم موجودتھا۔ ان کی شعری زبان بڑی سلجھی ہوئی نفیس اورنستعلیق ہواکرتی تھی یہی وجہہ ہے کہ الفاظ کے استعمال اوردروبست میں بڑا محتاط رویہ اختیار کرتے تھے۔انہوں نے جہاں زمانہ کے نامساعد حالات پر خامہ فرسائی کی وہیں ان کے کلام میں تصوف کاغیرمعمولی رنگ بھی دیکھنے کو ملتاہے۔یہی وجہہ ہیکہ ان کی شاعری ہرخاص وعام کو متوجہہ کرتی تھی۔ان کے یہاں اپنے اسلاف کی غیرمعمولی پاسداری تھی، وہ سچے عاشق رسولؐ اور اولیائے کرام سے عقیدت اورمحبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ڈاکٹروہاب عندلیب سابق صدرکرناٹک اردواکیڈیمی، امجدجاوید صدرانجمن،ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن، میرشاہ نوازشاہین،ڈاکٹر حشمت فاتحہ خوانی، نائبین صدر، ولی احمدخازن،ڈاکٹرمحمدافتخار الدین اختر شریک معتمد، خواجہ پاشاہ انعامدار معتمد تنظیمی، پروفیسر عبدالحمید اکبرصدرشعبہ اردوخواجہ بندہ نوازیونیورسٹی، پروفیسر حمیدسہروردی سابق صدر انجمن، ڈاکٹر رفیق رہبر،عبدالحمید، ڈاکٹروحید انجم، ڈاکٹر اسماء تبسم، مجیب احمد،صلاح الدین نے ان کو بھرپور خراج پیش کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم کی اردو دوستی،اردو شعروادب سے غیرمعمولی شغف اوردلچسپی لائق ستائش رہی۔ان کی بہ کمال شاعری یقینا اردو زبان وادب میں ایک اضافہ ہے۔ایسی شخصیت کاہمارے درمیان نہیں رہنا یقینا ہم تمام شہریان گلبرگہ کابڑاخسارہ ہے۔گلبرگہ ایک انتہائی منکسرالمزاج اورمرنجان مرنج شخصیت اوربہ کمال شاعر سے محروم ہوا۔

Post source : Urduleaks