October 25, 2020

بابری مسجد انہدام کیس کا فیصلہ مایوس کن _ مولانا حامدمحمدخان

بابری مسجد انہدام کیس کا فیصلہ مایوس کن _ مولانا حامدمحمدخان

حیدرآباد _30 ستمبر ( اردو لیکس)مولاناحامدمحمدخان نے بابری مسجد انہدام کیس میں تمام ملزمین کو بری کردئیے جانے کے فیصلہ کولے کرمایوسی ظاہر کی انہوں نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ28سال گذرجانے کے بعدبھی لوگوں کو جس انصاف کی تلاش تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہوسکا۔خصوصی عدالتی اس حقیقت کے باوجودثبوت کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے تمام ملزمین کو بری کردیا۔جبکہ سپریم کورٹ نے جائیداد کے سلسلہ میں جو فیصلہ صرف دس ماہ قبل سنایاتھا اس فیصلہ میں سال1949ء کومسجد کے احاطہ میں مورتیاں بٹھانے کوغیر قانونی،ناجائز اور 6ڈسمبر1992ء کومسجد کی شہادت کومجرمانہ فعل اور قانون کی خلاف ورزی قراردیاتھا۔6ڈسمبر1992 ء کو دنیا نے دیکھا تھا کہ کس طرح ان ملزموں کی جانب سے نعرے بازی کی گئی کہ ایک دھکا اور دو بابری مسجد توڑ دو۔ اور لوگوں کومسجد کی شہادت پراُکسایاگیا۔امیر حلقہ مولانا حامد محمدخان نے کہا کہ عدالت اس نتیجہ پر کیسے پہنچی کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کوئی سازش نہیں کی گئی اور یہ ایک اتفاقی حادثہ تھامنصوبہ بندنہیں، اس بات کو سمجھنا مشکل ہے۔اس معاملہ کے ایک اہم ملزم ایل کے اڈوانی کے ذریعہ شروع کی گئی پوری رام جنم بھومی تحریک اور رتھ یاترا عین اسی جگہ پرمندر تعمیر کرنے کے مشن کے سوا کچھ نہیں تھا اوردنیا اس بات کی بھی شاہد ہے کہ ملک بھرمیں جدھر جدھر سے بھی رتھ یاترا گذری فرقہ ورانہ خون ریز فسادات پھوٹ پڑے اور ہزارو ں انسانی جانوں کا اتلاف ہوا تھا۔مولانا نے کہا کہ اس معاملہ کو اعلیٰ عدالتوں کے سامنے چیلنج کرنے کی وہ حمایت کرتے ہیں کیوں کہ اس ملک کے ا نصاف پسند شہری کبھی بھی اس فیصلہ سے مطمئن نہیں ہوسکتے۔ہم ایک مہذب معاشرہ میں رہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی کو اہمیت حاصل ہے اور ہم عدالت کی طاقت کے سوا کسی کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی کسی تشددکی،جوسیاسی ایجنڈے یا مخصوص اہداف کے حصول کے لیے قانون کو نظر انداز کرتا ہے۔مولانا حامدمحمدخان نے مزیدکہا کہ جہاں عدل وانصاف نہیں ایسا ملک ہمیشہ امن کے لیے ترستا رہے گا۔مولانا نے آخرمیں کہا کہ بابری مسجد انہدام کیس میں تاریخ ہماری قوم کے ساتھ اچھا گمان نہیں رکھے گی۔جہاں انصاف میں تاخیرکی جاتی ہے اور ملزم گنہگاروں کو انعام کے طور پر آزاد چھوڑدیاجاتا ہے۔

Post source : urduleaks