جنرل نیوز

ھے قول محمد قول خدا فرمان نہ بدلا جائیگا ۔ بدلے گا زمانہ لاکھ مگر قرآن نہ بدلا جائیگا۔

 

(از مولانا محمد نظرالحق قاسمی گڈاوی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت و نائب صدر اصلاح معاشرہ کمیٹی رانی ڈیہہ گڈا جھارکھنڈ)

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں، اور اللہ اپنا نور پورا کر کے رہے گا اگرچہ کافر برا مانیں۔
زمانۂ قدیم سے لیکر آج تک اسلام اور اہل اسلام کو مٹانے کی انتھک کوششیں جاری ہیں
ہر زمانے میں دشمنوں نے الگ الگ انداز سے اسلام اور اہل اسلام کو نشانہ بنایا۔ نئے نئے حربے استعمال کئے گئے ۔ کبھی ناموس رسالت پر حملہ کیا۔ کبھی داڑھی ٹوپی کو نشانہ بنایا۔ کبھی اذان و نماز اور دیگر عبادتوں کو ہدف بنایا۔ کبھی قربانی پر پابندی لگانے کی بات کی۔ کبھی پردہ کو نشانہ بنایا۔ کبھی تین طلاق اور تعدد ازدواج کو ٹارگیٹ بنایا۔ کبھی قرآن کریم پر پابندی کی بات کی گئی۔ الغرض ہر پہلو سے اسلام اور اہل اسلام کو جھنجھوڑا گیا اور ہم صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے رھے ۔
ان تمام چیزوں کے باوجود مذہب اسلام آج تک باقی ھے اور ان شاءاللہ تاقیامت باقی رہیگا ۔
یہ در اصل ہم مسلمانوں کیلئے ایک آزمائش اور امتحان ھے۔ ہمیں چاہیئے کہ قرآنی تعلیمات کو عام کریں۔
قرآن کو پڑھیں ۔ سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔
ابھی حالیہ دنوں میں گندی سیاست کا تلوا چاٹنے والا ایک ملعون و منحوس شخص وسیم رضوی سرخیاں بٹورنے کیلئے سامنے آیا ھے ۔
کچھ دنوں پہلے بابری مسجد کا سودا کرنے والا ملعون وسیم رضوی نے قرآن کریم کی 26 آیت کریمہ کو ہٹانے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ھے، یہ اس ملعون شخص کی حماقت ھے۔
26 آیتیں تو بہت ھو گئیں رضوی ملعون۔ کوئی بھی انسان قرآن کریم میں ایک آیت کیا ایک لفظ کیا ایک حرکت یعنی زبر زیر پیش جزم یا تشدید بھی ہٹانا تو دور کی بات اسے آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ قرآن اللہ تعالی کا ‘معجزہ’ ہے۔ اللہ کی کتاب میں ایک نقطہ بھی اوپر نیچے نہیں کیا جاسکتا۔
وسیم رضوی اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے اب مسلمان نہیں رہا وہ مرتد ھو گیا ھے ۔ اس کا شمار کافروں میں ھوگا۔ اگر وہ توبہ و استغفار اور تجدیدِ ایمان کے بغیر مرتا ھے تو اس کی جنازہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں ھے اور نہ ہی اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز ھوگا۔ اب وسیم رضوی کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔
*قرآن کریم کا چیلنج تو دیکھئے!*
زمانۂ جاہلیت میں عرب کے لوگ خود کو فصیح و بلیغ اور اہل زبان کہتے تھے اور غیر عربی کو عجمی یعنی گونگے قرار دیتے تھے۔ ایسے وقت میں سورہ کوثر کی تین آیتیں خانہ کعبہ کے دروازہ پر لٹکا دیے گئے۔ اور اعلان کرکے کہہ دیا گیا کہ اس جیسی کوئی ایک چھوٹی سی سورت پیش کر دو۔ لیکن خود کو فصیح و بلیغ سمجھنے والے تمام عربی تین آیات کا جواب نہیں دے پائے۔ قرآن کریم کو غلط کہنے والے خود غلط ثابت ھو گئے۔

*قرآن کریم کی حقانیت دیکھئے !*
مامون الرشید ہر سال ایک علمی کانفرنس منعقد کرتا تھا۔ اور اس میں مختلف مذاہب کے لوگ شریک ھوتے تھے اور اپنی علمی لیاقت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ایک بار ایک یہودی شخص مامون الرشید کے اس جلسہ میں حاضر ہوا اور بہترین انداز میں علمی گفتگو کی، اس کے انداز کلام اور علم کو دیکھ کر مامون بہت متاثر ہوا اور اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اسے مال و عطاء کی رغبت بھی دلائی ، لیکن وہ یہودی یہ کہہ کر چلا گیا کہ "میرے باپ دادا کا دین ہی میرا دین ہے” پھر اگلے سال یہی یہودی مامون الرشید کے جلسہ میں شریک ھوا اور اسلام اور فقہ کے بارے میں بہت اچھے انداز میں تقریر کی، مامون الرشید نے اس کی باتیں سن کر کہا ” کیا تُم وہی ہو ؟ جسے میں نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور اسے قبول نہیں کی تھی،”
اس نے کہا "جی ہاں میں وہی ہوں”
مامون نے کہا ” تمہارے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا بنا ؟ ”
اُس نے کہا ” میں ایک خوش نویش ھوں خطاط ھوں۔ آپ کے پاس سے نکلا تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان تینوں مذاہب (یہودیت۔ عیسائیت اور اسلام) کا امتحان کروں، آپ جانتے ہیں کہ میری لکھائی بہت اچھی ہے ، لہذا میں نے یہاں سے جانے کے بعد سب سے پہلے تورات کے تین نسخے لکھے اور اُن میں اپنی طرف سے رد و بدل کیا۔ اس میں کمی اور زیادتی کی، پھر انہیں لے کر یہودیوں کی عبادت گاہ میں گیا اور سب نسخے فروخت کر دیے، اور بڑی آسانی سے سارے نسخے فروخت ھو گئے۔
اس کے بعد میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی اپنی طرف سے رد و بدل کیا۔ ترمیم و تبدیل کی۔ کمی اور زیادتی کی اور پھر انہیں لے کر عیسائیوں کی عبادت گاہ میں گیا اور وہ سب نسخے فروخت کر دیے، اور بڑی آسانی سے سارے نسخے فروخت ھو گئے۔
اس کے بعد میں نے قران کریم کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی اپنی طرف سے رد و بدل کیا۔ ترمیم و تبدیل کی۔ کمی اور زیادتی کی اور پھر اسے کچھ مسلمانوں کے پاس لے گیا تو انہوں نے ان نسخوں کو لےکر دیکھنا اور پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے وہ نسخے خریدنے کے بجائے مجھے مارنے کے لیے پکڑ لیا ، کیونکہ انہوں نے ان نسخوں میں میری طرف سے کی گئی کمی اور زیادتی کو فوراً ہی پکڑ لیا تھا ، اس طرح مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ یہی کتاب محفوظ ہے اور یہی اس دِین کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے، لہذا میں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گیا،
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا ھے
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ کہ بیشک اس قرآن کو ہم نے نازل کیا ھے اور اس کے محافظ بھی ہم ہی ہیں۔
ہم وسیم رضوی ملعون کی اس ناپاک حرکت کی مذمت کرتے ہیں۔ اور ایسی ذہنیت رکھنے والے زہریلے افراد کے خلاف قانونی کارروائی چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button