مسلمانوں کیلئے انبیاء کی زندگی مشعل راہ ‘ نوجوان نسل اسلامی تاریخ سے ناواق

مولانا حافظ محمد ریاض احمد قادری حسامی کا نماز جمعہ سے قبل خطاب

حیدرآباد۔23جولائی(پریس ریلیز) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا پہلا امتحان اس وقت لیا جب انہیں آگ میں پھینکا گیا۔ آپؑ اس آزمائش میں پورے اترے اور جان کی پروا نہ کرتے اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے دعوت حق سے پیچھے نہ ہٹے لیکن آپ کی آزمائشوں کا سلسلہ یہیں بند نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کئی اور امتحان لئے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ اور چہیتے واکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل کو حرم کی ویران وبیابان سرزمین پر چھوڑ آؤ۔ اس وقت دور دور تک مکہ میں کوئی آبادی نہ تھی۔ ایسی اجاڑ جگہ اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر واپس آجانا جبکہ وہاں نہ کوئی انسان تھا اور نہ ہی دانہ پانی کا نام ونشان، حضرت ہاجرہ ان دنوں حضرت اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں ،اپنے شیر خوار بچے اور بیوی کو ایسی جگہ چھوڑ آنا سخت ترین امتحان تھا۔ اس امتحان کا مقصد جہاں اپنے محبوب بندے کی آزمائش کرنی تھی، وہاں دوسری طرف کعبہ شریف کی تعمیر اور مکہ مکرمہ کو آباد کرنا بھی مقصود تھا۔ غرض یہ کہ حضرت ہاجرہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں مشکیزہ کا پانی اور کھجوریں ختم ہوگئیں یہا ں تک کہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا بھوکی پیاسی ہوگئیں جس کے سبب دودھ بننا بھی ختم ہوگیا اور آپ کے ساتھ ساتھ بچہ بھی بھوک وپیاس سے بلک اٹھا۔ بچے کی تڑپ اور پیاس آپ سے دیکھی نہ گئی۔ اس بے قراری کے عالم میں دوڑ کر قریب کی پہاڑی صفا پر چڑھیں کہ شاید کہیں پانی نظر آجائے یا کوئی انسان ہی نظر آجائے جو اُن کی مدد کرسکے لیکن وہاں کچھ نظر نہ آیا تو اُتر کر دوڑتی ہوئی مروہ کی پہاڑی پر چڑھیں کہ گوہر مقصود نظر آجائے مگر یہاں بھی کوئی نظر نہ آیا۔ اسی بے قراری، تڑپ اور پریشانی میں آپ نے صفا ومروہ کے سات چکر لگائے۔جب آپ بالکل تھک گئیں اور پانی ملنے کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی تھی ۔ حضرت اسماعیل بھی پیاس سے سخت مضطر تھے، آپ نے ایڑی زمین پر پٹخنا شروع کردیا تب اللہ کے فضل سے حضرت اسماعیل کا معجزہ ظہور میں آیا۔ جہاں آپ ایڑی ماررہے تھے، اللہ نے وہاں سے پانی کا ایک چشمہ جاری فرمادیا۔ جب حضرت ہاجرہ نے اس منظر کو دیکھا تو مارے خوشی کے پانی سے کہنے لگیں زم زم یعنی رک جا رک جا۔جب بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے پانی پیا تو آپ کا دودھ جاری ہوگیا۔ اس وقت ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے آپ سے کہا کہ ’’اس بات سے خوف نہ کرو کہ تم ضائع ہوجاؤگی بے شک یہاں بیت اللہ ہے اس کی تعمیر یہ بچہ اور اس کے والد کریں گے ۔بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ کی تیسری آزمائش جو انتہائی عظیم الشان ہے اوروہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دین حق کی خاطر ہجرت کی اور اپنے رب سے ایک نیک اولاد کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے ایک بردبار وحلیم بیٹا عطا فرمایالیکن جب حضرت اسماعیل علیہ السلام چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا صبر وحلم اور بردباری واضح کرنا مقصود ہوا، چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے ۷؍ذی الحجہ کی رات خواب دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ آپ علیہ السلام صبح تفکر وتردد میں مبتلا رہے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یا فقط خواب و خیال تو نہیں ، آٹھ تاریخ کا دن گزر جانے پر رات پھر خواب دیکھا۔ صبح یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہے۔ اس کے بعد آنے والی رات کو پھر خواب دیکھنے پر صبح اس پر عمل کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اسی لئے ۱۰؍ ذی الحجہ کو یوم النحر (ذبح کا دن ) کہا جاتا ہے ۔ آپ نے اس خواب کا ذکر حضرت اسماعیل سے کیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور اتنی بڑی آزمائش کا بردباری اور خندہ پیشانی کے ساتھ سامنا کرنے کیلئے خود کو پیش کردیا۔یہاں چونکہ مطلوب ومقصود حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی نہیں تھی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش مقصود تھی، اسلئے جب انہوں نے حضرت اسماعیل کے حلقوم پر چھری رکھی اور اسے چلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل امیں کے ساتھ جنت سے ایک دنبہ بھیجا جسے آپ نے حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دیا اور حضرت اسماعیل کو اس مقام سے ہٹا لیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو قربان ہونے سے بچا لیا لیکن جانور کی قربانی کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے صبح قیامت تک کیلئے قربانی کے عمل کو جاری فرمادیا ہے جو ہمیں جد الانبیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور ان کی قربانیوں اور آزمائشوں کی یاد دلاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار ملوانا حافظ محمد ریاض احمد قادری حسامی ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم وخطیب مسجد محمودہ بی کے پورم نے نماز جمعہ سے قبل اپنے حظاب میں کیا اور کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خود بھی اسلامی تعلیمات اور واقعات سےواقفیت حاصل کریں اور اپنے بچوں میں بھی اسلامی تعلیمات کو عام کریں ‘ چونکہ یہ واقعات ہمیں بچوں کی تربیت ‘ کیلئے بہت اثر انداز ثابت ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسلمانو ںکو اپنی اسلامی تاریخ پر عبور ہونا چاہئے کہ ان سے پہلے انبیاء ‘ صحابہ ‘ وتمام بزرگان دین کس طرح کی قربانیوں سے دین اسلام کی فروغ کی کوشش کی ۔