اقامتی اسکول میں داخلہ دلوانے سرپرستوں سے اپیل _نارائن پیٹ ٹاون اقلیتی اقامتی کالج بوائز میں تقریب

نارائن پیٹ:29 جولائی( اردو لیکس ) کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ علم حاصل کرنے کے لے انسان کو جدوجہد کرنا بھی ضروری ہے۔ طلباء نوجوانوں کو بہتر تعلیمی موقع فراہم کرنا کسی بھی ملک کی حکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نارائن پیٹ ڈسٹرک میناریٹی ویلفیر آفیسر گویندا راجن نے نارائن پیٹ ٹاون میں واقع اقلیتی اقامتی کالج بوائز میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے نارائن پیٹ ڈسٹرک میناریٹی ویلفیر آفیسر گویندا راجن’ اقلیتی اقامتی اسکول بوائز پرنسپل محمد فرید نے شرکت کی۔ اس موقع پر پرنسپل اقلیتی اقامتی اسکول بوائز محمد فرید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی ومعاش پسماندگی کے خاتمہ کے لئے  ریاست تلنگانہ میں اقلیتی اقامتی اسکول و کالجس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ریاست بھر میں ان اسکولس کی تعداد 204 ہے جبکہ کالجس 200 ہے۔اس موقع پر انہوں نے سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان اقامتی اسکول و کالج میں اپنے بچوں کے مستقبل سوارنے کے لے داخلہ دلوائیں۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہترین صلاحیتوں کے ذریعہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو روشن بنائیں۔ ریاست تلنگانہ اور ملک کا نام روشن کریں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ آن لائن کلاسس میں 100% ضرور شرکت کریں۔ بعد ازاں نارائن پیٹ ڈسٹرک میناریٹی ویلفیر آفیسر گویندا راجن کے ہاتھوں انٹرمیڈیٹ طلباء میں مفت کتابیں ونوٹ بکس کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ اجلاس کی کاروائی سید فاطمہ لکچرر نے انجام دی۔ اس موقع پر کالج اسٹاف محمود’ کرشنا’ دانیا’ محمد ظہیر’ امتیاز وارڈن ودیگر موجود تھے۔