جنرل نیوز

تلنگانہ میں روزگار پانے کا سنہری موقع

از: ڈاکٹر تبریزحسین تاج
صحافی و اسکالر حیدرآباد

تلنگانہ حکومت کی جانب سے ریاست کے مختلف سرکاری محکموں میں بڑے پیمانے پر تقررات کیلئے سرکاری مشنری کوشاں ہے۔ گزشتہ دنوں ریاست کے چیف منسٹر کے چندراشیکھراراؤ نے کابینہ اجلاس میں وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کو جلد سے جلد مخلوعہ جائیدادوں پر پہلے مرحلے کے تحت تقریباً 50ہزار سے زائدجائیدادوں پر فوری طورپر تقررات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جس کے بعد تمام محکموں میں خالی جائیدادوں کی فہرست تیارکرنے اور اِن جائیدادوں کی زمرہ بندی کرنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ کیونکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل، نئے اضلاع کا قیام اورنیا زونل سسٹم آنے کے بعد زمرہ بندی کی نوعیت بدل گئی ہے۔ ضلعی اور زونل کے اساس پر مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار حاصل ہونے کا امکان ہے۔
جو لوگ قبل ازوقت بہتر حکمت عملی اور منصوبہ بندی کرلیتے ہیں کامیابی اُنہی کے قدم چومتی ہے۔تلنگانہ میں بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اِن سرکاری ملازمیتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کیلئے بہترین حکمت اورمنصوبہ بندی کریں۔مسابقتی دوڑ میں اچھا مظاہرہ کرنے والے سنجیدہ نوجوان ہی منزل تک رسائی کرتے ہیں۔نوجوانوں کے پاس وقت بہت کم ہے اور کم وقت میں اپنے آپ کو قابل اور اہل اور بنانے کی کوشش کرنی ہے۔شکوے شکایتوں اور ناکامی کے خوف کو اپنے ذہن سے نکالتے ہوئے ہمیشہ مثبت سوچ اورصدفیصد کامیابی کے ارادے کے ساتھ امتحان کی تیاری کریں یقینا ایسے ہی نوجوان کامیاب ہونگے اور سرکاری ملازمتوں پر فائز ہونگے۔
یونیورسٹیز میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرا تقررات نہیں ہوئے ہیں۔ اس بار ریاست کی تمام11 یونیورسٹیوں میں خالی1195اسسٹنٹ پروفیسر س کی جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔امکان ہے کہ اس ضمن میں جلد ہی اعلامیہ جاری کیا جائیگا۔اس بار یونیورسٹیوں میں اِن تدریسی جائیدادوں پر تقررات کیلئے طریقہ کار تبدیل کیا جانے کا بھی امکان ہے۔ پہلے یونیورسٹی انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں انٹرویوز کی بنیاد پر تقرررات کیا کرتے تھے۔ لیکن اس بار تمام یونیورسٹیوں میں تقررات کیلئے مشترکہ ٹسٹ تحریری امتحان اور انٹرویو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس کیلئے یونیورسٹی قوانین میں ترمیم کیلئے آرڈینینس لایا جاسکتا ہے۔پہلے اِن عہدوں کیلئے یوجی سی کا قومی اہلیتی ٹسٹ (نیٹ)یاپھر ریاست کا ریاستی اہلیتی ٹسٹ(سلیٹ)کامیاب اُمیدواروں کواہل قرار دیا جاتا تھا۔ تاہم یوجی سی کے تازہ اُصول وقواعد کے مطابق اس مرتبہ پی ایچ ڈی کو لازمی کردیا گیاہے۔ جبکہ نیٹ اور سلیٹ کیلئے وٹیج مارکس دئیے جائیں گے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں میں خالی جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اُس کا انکشاف کیا گیا ہے تفصیلات کچھ اسطرح ہے۔
عثمانیہ یونیورسٹی
433
جے این ٹی یو
209
کاکتیہ یونیورسٹی
159
آر جے کے ٹی یو
102
تلنگانہ یونیورسٹی
68
پالمور یونیورسٹی
64
شاتاواہانہ یونیورسٹی
47
ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی
23
مہاتماگاندھی یونیورسٹی
36
پوٹی سری راملو تلگو یونیورسٹی
13

یہ تو یونیورسٹیوں میں راست تقررات کی تفصیلات ہیں۔ اس کے بشمول دیگر اہم محکمہ جات میں بھی راست طورپر تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ جس کی ذمہ داری ریاست کی تقرراتی ایجنسی تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کو سونپی جارہی ہے۔ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا پر گمراہ کن افواہوں کے بجائے راست طور پر تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی ویب سائٹ کا مشاہدہ کرتے رہیں تاکہ تازہ اپ ڈیٹ جانکاری ملے اور صحیح رہنمائی حاصل ہوسکے۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ تقررات کیلئے منعقد ہونے والے امتحانات ریاست کی سرکاری زبانوں میں منعقد کیے جائیں گے۔اردو زبان میں بھی انعقاد کا امکان ہے۔لیکن محبان اردو کی یہ ذمہ داری ہے کہ قبل ازوقت اردو زبان میں ان امتحانات کے انعقاد کیلئے ارباب مجاز اور ریاست کے وزیراعلیٰ سے کامیاب نمائندگی بھی کریں تاکہ اردو میڈیم کے اُمیدوار بھی اپنی صلاحیتوں کا بہترین انداز سے مظاہرہ کرتے ہوئے ملازمت کو حاصل کرسکیں۔
تلنگانہ میں آنے والے چند مہینے نوجوانوں کی قسمت کو بدل سکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنی کامیابی کیلئے اب سے ہی بہترین انداز میں کوشش کریں سب سے پہلے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ کونساامتحان لکھنا چاہتے ہیں اُس کا نصاب حاصل کرلیں۔نصاب کے مطابق ہی تیاری کریں۔ نصاب کے مطابق تیاری کرنے سے نوجوانوں کو کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ہرمحکمہ میں خالی جائیدادوں کیلئے زمرہ بندی کی گئی ہے۔ اُس عہدے کے لئے ہی مرتب کردہ نصاب کے مطابق ہی سوالات تیار کیے جائیں گے۔سوالات آبجکٹیوٹائپ کے ہونگے۔ ایک سوال چار جواب دئیے جائیں گے اُمیدوار کو صحیح جواب کا انتخاب کرنا ہوگا۔
ریاست میں تلنگانہ اقلیتی اسٹڈی سنٹر کے بشمول کئی ادارے کوچنگ دے رہے ہیں۔اُمیدوار کو چاہئے کہ اچھے کوچنک ادارے کا انتخاب کریں۔عالمی وباء کرونا کی وجہ سے کوچنگ اس مرتبہ دو طریقوں میں دی جارہی ہے ایک روایتی طریقہ اور دوسرا آن لائن طریقہ۔اُمیدواروں کو چاہئے کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق کوچنگ کے کسی ایک طریقے کو چن لیں اور ایمانداری سے کامیابی کے اُمیدکے ساتھ تیاری کریں۔
تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے اِن راست تقررات میں گروپ ون کے اعلیٰ عہدے جیسے ڈپٹی کلکٹر،ڈی ایس پی، کمرشیل آفیسر وغیرہ پر بھی تقررات کابھی امکان ہے۔اِن بڑے اور باوقار عاملہ عہدوں پر تقررات کیلئے اچھی کوشش کرنی چاہئے۔سخت محنت اور لگن سے منزل پر نظر رکھنے والے نوجوان ہی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ منفی سوچ فکر کو کبھی اپنے ذہن میں آنے نہ دیں۔تب ہی آپ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں۔اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ خدشات ظاہر کرتے ہوئے بدگمانی اور منفی سوچ وفکر کو پیدا کرنے کی مذموم کوش کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، ہمارے ساتھ تعصب ہوگا ہمارا تقرر نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ ایسے منفی خیالات کو اپنے ذہنوں سے کوسوں دور رکھیں۔ ایسی سوچ اور گمان والوں سے تبادلہ خیال نہ کریں اِن سے بات کریں گے تو وقت بھی ضائع ہوگا اور ارادے بھی کمزور ہونگے۔ہمیشہ اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔یہاں سرکاری محکموں کے تقررات میں مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوسکتا۔دستورہند میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق عطا کیے گئے ہیں۔مذہب کی بنیاد پر محروم بھی نہیں کیا جاسکتا۔کچھ بدماش افسر ہیں جو اس طرح کی حرکت انجام دے سکتے ہیں ہم اُسی کوہی بنیاد نہیں بناسکتے۔ البتہ ایسے تعصب پرستوں کے خلاف عدلیہ سے رجوع ہوکر انصاف حاصل کرسکتے ہیں۔ جس کیلئے ہم باشعور ہونے کی ضرورت ہے کہ کہاں ہمارا حق تلف ہورہا ہے اور کہاں ہمارے ساتھ ناانصافہ ہورہی ہے۔اگر یہ شعور ہم میں جاگا تو ہم اپنے حقوق کو حاصل کرکے رہیں گے۔ورنہ لاشور قوموں کی داستاں تک نہیں ہوگی داستا نوں میں۔ جمہوری ملک میں جس طرح سڑک سب کیلئے بچھائی جاتی ہے ٹھیک اُسی طرح ملازمتوں کے دروازے بھی سب کیلئے کھلتے ہیں۔بس اپنے اندر حوصلہ اور کامیابی کا جذبہ پیدا کرتے ہوئے اچھی محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھیں تو کامیابی قدم چومے گی۔آپ کے پرچوں کی جانچ کمپوٹرائز ہورہی ہے۔جہاں کرپش کی گنجائش نہیں ہے۔جو قابل اُمیدوار ہیں وہ منتخب ہوجائیں گے یعنی قابل اُمیدواروں کیلئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا سنہرہ موقع ہے۔
آخر میں بس یہی التماس ہے نوجوانوں سے کہ وہ مایوس اور نااُمید ہوئے بغیر مثبت سوچ کے ساتھ اِن امتحانات کا تیاری کریں اور تازہ ایپ ڈیٹ پر نظر رکھیں اپنے آپ کو حالات حاضرہ کے مطابق ہم آہنگ کرلیں یقینا کامیابی اپنی قسمت بن جائیگی۔دوسروں کیلئے آپ مثالی بن جائیں گے۔یہ بہترین وقت ہے جو اللہ تعالی آپ کو عطاکررہا ہے خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور کمرکس لیں۔ذرا دیکھو اپنے ارد گرد بسنے والے دوسرے قوموں کے نوجوانوں کو جو صبح چار بجے اُٹھ کر مسابقی امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں۔جبکہ ہم زور زور سے کہتے ہیں صبح کا سونا رزق کو روکتا ہے پر ہم ہی رات بھر چبوتروں پر گپ شب کرکے صبح سویرے سونے کیلئے گھر جاتے ہیں۔ یاد رکھو صبح کا یہ سونا آپ کے ارادوں کو کمزور کریگا۔مسابقت کے اس دور میں آپ کو پیچھے ڈھکیل دے گا۔جاگو ورنہ قیمتی موقع ہاتھ سے چلا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button