جنرل نیوز

ٹی یو ڈبلیو جے یو اوٹکور کی جانب سے جامع مسجد پنچ کے خطیب و امام کے اعزاز میں اردو صحافیوں نے کیا نشست کا اہتمام

ٹی یو ڈبلیو جے یو اوٹکور کی جانب سے جامع مسجد پنچ کے خطیب و امام کے اعزاز میں اردو صحافیوں نے کیا نشست کا اہتمام 

 

اوٹکور : (اردو لیکس۔عبدالوسیم) جامع مسجد پنچ کے خطیب و امام مولانا نورالاسلام رحمانی صاحب جو کہ گذشہ تقریباً ڈھاٸی سال سے جامع مسجد پنچ اور مدرسہ فیض الھدیٰ اوٹکور میں مختلف دینی خدمات انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔مولانا کے اچانک استعفی دینے کی خبریں معتبر ذرائع سے موصول ہونے پر اردو صحافيوں کی تنظیم تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین اوٹکور کے مقامی صحافیوں نے تحقیق کے بعد مولانا کی وطن واپسی سے قبل ایک وداعی اعزازی تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں مولانا کی اوٹکور مستقر میں دینی خدمات کی قدر کرتے ہوۓ ان کی عزت افزٸی کےلیۓ شال پوشی کی گٸ۔اس موقع پر تنظیم صدر قاضی عبدالخالق صاحب و نامہ نگار روزنامہ صحافی دکن اسٹاف رپورٹر ناراٸن پیٹ ضلع نے مولانا کے اوٹکور چھوڑ کر وطن واپسی کو لیکر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ مولانا ایک بہترین مقرر ہونے کے ساتھ صحافت کے میدان میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں

 

ان کا اس طرح ہمارے درمیان سے جانا ہمیں ہمیشہ یاد آۓ گا مولانا سے ہم صحافی برادری کو کافی حد تک رہنمائی ملتی تھی۔تنظیم کے رکن منظور احمد گنتہ صاحب نامہ نگار روزنامہ سیاست نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ مولانا حالات حاضرہ سے واقف رہتے ہوٸے وقتاً فوقتاً اہل اوٹکور کی رہنمائی قرآن و سنت کی روشنی کرتے رہتے ہیں آپکی تاریخ پر گہرا عبور حاصل ہے مولانا نے مختصر عرصہ میں اہل اوٹکور کے درمیان اپنی ایک پہچان بنائی وہ ہر وقت اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں سرگرم نظر آتے ہیں مولانا کی وطن واپسی اہل اوٹکور اور خصوصی طور پر صحافی برادری کیلٸے تکلیف دہ ہے۔

 

قاصد ہند کے صحافی عبدالوسیم صاحب نے کہا کہ مولانا دینی و دنیوی حالات سے بہتر طریقہ سے واقفیت رکھتے ہیں وہ ایک ملنسار شخصیت ہیں انکی زندگی نوجوانوں کے لیۓ ایک آٸیڈیل ہے وہ ہندی اردو زبان کے ماہر ہیں اوٹکور میں قیام کے دوران ہمیں مولانا کی جانب سے مختلف قسم کی رہنماٸی ملتی رہی ہے مولانا کا یوں اچانک سے استعفی دیکر جانا ہمارے لیۓ شاق ہے۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ 17 جنوری 2022 کو طور پر اپنے آبائی وطن جارہے ہیں مولانا نے بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے گھریلو مسائل کو لیکر کیا ہے۔وہ جامع مسجد پنچ کے تمام مصلیان و مسجد کمیٹی سبھی ذمہ داران سے خوش اور مطمٸن نظر آٸے انہوں کہا کہ وہ میرے استعفی کو لیکر کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی افواہوں پر دھیان دیں۔انہوں نے اس وداعی اعزازی نشست کیلیۓ اپنے سوشل اکاٶنٹ سے صحافی برادری کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔اس موقع پر این۔محمود صاحب نامہ نگار روزنامہ رہنماٸے دکن،محمد اشفاق نامہ نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا،محمد اسحاق نامہ نگار روزنامہ اعتماد،محمد کاظم حسین نامہ نگار روزنامہ منصف، بابو میاں،عامر شریک رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button