تلنگانہ

حکومت تلنگانہ ریاست میں اُردو زبان کے فروغ کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے؟

 


نظام آباد:22/ ڈسمبر (ای میل)حکومت تلنگانہ ریاست بھر میں اُردو زبان کے فروغ کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات کرنے سے گریز کررہی ہے۔ جبکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے اس وقت ریاستی برسراقتدار کانگریس حکومت نے اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف عطا کیا ہے اس کے باوجود موجودہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اُردو زبان کو فروغ دینے کے بجائے اسے خاتمہ کرنا کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ شروعات میں سرکاری دفاتر و تعلیمی اداروں سے مکمل طور پر اُردو برخواست کرنے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ اس امر کا انکشاف متحدہ ضلع نظام آباد کے کہنہ مشق صحافی و ایڈیٹر انچیف ہفتہ وارللکار نظام آباد رفیق شاہی نے اپنے جاریہ ایک صحافتی اعلامیہ میں کیا

 

اور بتایا کہ ریاست تمام میں اُردو زبان کے خاتمہ کے پیچھے ہمارے ریاستی سطح کے ممتاز و اہم سیاسی و مذہبی قائدین کا ہاتھ شامل ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے کہ پوری ریاست میں جب کبھی عام انتخابات (پارلیمانی و اسمبلی) کا سیزن آتا ہے تو ریاستی مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے اُردو زبان کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مسلم ووٹ بنک میں اضافہ ہوسکے۔ رفیق شاہی نے مزید کہا کہ گری راج گورنمنٹ ڈگری کالج نظام آباد میں جاریہ سال سے اُردو میڈیم سے تمام کورسوں کیلئے داخلوں پر متعلقہ حکام کی جانب سے برخواستگی کے اعلان پر اپنی طرف سے ناراضگی کا اظہار کیا اور اس اقدام کو متحدہ ضلع نظام آباد سے وابستہ تمام مسلمانوں بالخصوص اُردو دان طلباء و طالبات جو اپنی جاریہ تعلیم ڈگری کورسس اُردو میڈیم سے جاری رکھنا چاہتے ہیں مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت تلنگانہ کی یہ تعلیمی پالیس یہاں واضح طور پر پر ظاہر ہوگئی ہے کہ ریاستی سطح کے تمام اُردو میڈیم سرکاری تعلیمی اداروں میں گذشتہ 8 سالوں سے مخلوعہ اساتذہ کی جائیدادوں پر عدم تقررات کے باعث تما م تعلیمی جاریہ سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے جس کی ساری ذمہ داری حکومت تلنگانہ پر عائد ہوتی ہے

 

یہاں یہ بات ضروری ہوگی کہ گری راج گورنمنٹ کالج نظام آباد اور گورنمنٹ گرلز جونیئر کالج نظام آباد میں اُردو میڈیم سے ڈگری اور جونیئر کالج سطح کے مختلف کورسوں کے آغاز کے سلسلہ میں شروعات میں متعلقہ حکام کو رفیق شاہی کی جانب سے کئی مرتبہ توجہ مبذول کروائی گئی بعدازاں ضلع نظام آبادمستقر پر شہر سے وابستہ بعض مسلم ممتاز و نامور شخصیتو پر مشتمل ایک فلاحی ادارہ”اُردو سوسائٹی نظام آباد“ کے نام پر تشکیل عمل میں لائی گئی۔ بعدازاں متحدہ ریاست آندھراپر دیش کی برسراقتدار تلگودیشم حکومت میں برسراقلیتی وزیر و رکن اسمبلی حلقہ بودھن بشیر الدین بابو خان مرحوم کی کامیاب کوششوں کے باعث اس اُردو سوسائٹی کو ان سرکاری جونیئر و ڈگری کالج سطح پر اُردو میڈیم میں کورسس چلانے کی منظوری دی گئی

متعلقہ خبریں

Back to top button