جنرل نیوز

مسلمانانِ ہند مساجد کی حفاظت اور خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہیں _ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے جمعہ کے خطبہ کو جاری کیا

 

 

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم قال اللہ تبارک و تعالیٰ : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ

 

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: يَقُولُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ: "إِنِّي لَأَهُمُّ بِأَهْلِ الْأَرْضِ عَذَابًا فَإِذَا نَظَرْتُ إِلَى عُمَّارِ بُيُوتِي والْمُتَحَابِّينَ فِيَّ والْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ صَرَفْتُ عَنْهُمْ”.(شعب الإيمان للبيهقي)

 

محترم مصلیان کرام! جس طرح انسانوں کا نصیب ہوتا ہے، اسی طرح زمینوں کا بھی نصیب ہوتا ہے، جس زمین کا نصیب اونچا ہوتا ہے، وہاں اللہ کا گھر تعمیر ہوتا ہے، روئے زمین پر سب سے زیادہ خیر وبرکت والی جگہ اگر کوئی ہےتو وہ اللہ کا گھریعنی مسجد ہے، مسجد کہتے ہیں سجدے کی جگہ کو، چونکہ مسجدیں نماز کی ادائیگی کا مقام ہیں اور نماز میں اہم ترین حصہ سجدہ ہے، اس لیے مسجدوں کو سجدے کی نسبت سے سجدہ گاہ کا نام دیا گیا ہے، مسجد ہر اس آبادی اور بستی کی بنیادی ضرورت ہے جہاں مسلمان آباد ہوں، مسجدوں کے ذریعے ہی مسلمانوں کو قوت، طاقت، رہنمائی اور رہبری ملتی ہے، مسجدیں صرف عبادت کا مقام نہیں ہیں، بلکہ وہ اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار ہیں،عقیدہ توحید جو اسلام کی بنیاد ہے اس کی عملی شکل مسجد میں دیکھنے کو ملتی ہے، اسی طرح مساوات اور برابری بھی جیسی اور جتنی کچھ مسجد میں ہے دنیا کی کسی عبادت گاہ میں نہیں ہے، مسجد میں امیرو غریب، عالم وجاہل، حاکم و محکوم اور بادشاہ ورعایا سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں، اسلام کا یہ جو اعلان ہے کہ” کسی عربی کو عجمی پر، عجمی کو عربی پر، کالےکو گورے پر، گورے کو کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے“ اس کی بہترین تصویر مسجد میں نظر آتی ہے، مسجدوں سے ایمان والوں کو دین کا شعور ملتا ہے، اور مشکل حالات میں راہِ حق پر استقامت کا سبق بھی! دین کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا پردہ بھی انہی مساجد کے منبروں سے چاک کیا جاتا ہے، اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے، مسجد کے محراب ومنبر ہی سے جہالت و ضلالت اور شرک وبدعت کے خلاف مضبوط آواز ابھرتی ہے، یہیں سے شریعت کے احکامات کو دلائل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، معاشرت کے بہترین اصول کی تعلیم بھی یہیں سے ملتی ہے، بھلی باتوں اور اچھی صفات کی دعوت کا مرکز بھی مسجدیں ہی ہیں، مسلم معاشرے کو جن باتوں یا جن چیزوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے ان میں سے اکثر وبیشتر کا راستہ مسجدوں کی برکت سے بند ہوجاتا ہے، مسجدیں ایمان واسلام، محبت واخوت، عدل ومساوات، خیر خواہی اور غم گساری، صدق وصفا اور مہر ووفا کا مرکز ہیں، اسلامی معاشرے میں ہدایت اور برکت مسجد کے ذریعےہی تقسیم ہوتی ہے، اسی لیے مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر بستی میں مسجد تعمیر کریں، اس کی خدمت کریں، اسے صاف ستھرا رکھیں اور اپنے سجدوں سے اس کو آباد رکھنے کی فکر کریں کہ جب تک مسجدیں آباد ہیں مسلمانوں کے گھر اور ان کے محلے بھی آباد ہیں، اور مسجدوں کی ویرانی مسلمانوں کے محلوں اور بستیوں کی ویرانی ہے۔

 

محترم مصلیانِ کرام! مسجدیں جہاں دین وایمان اور اخلاص واخلاق کی تعلیم دیتی ہیں، وہیں مسجدوں سے امن وامان اور ہر انسان کے احترام کا بھی درس دیا جاتا ہے، یہ کیسی افسوس ناک بات ہے کہ جن مسجدوں سے امن وامان کی دعوت معاشرے میں پھیلتی ہے انہی کو فرقہ پرست عناصر ملک میں نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنارہے ہیں، اور تاریخی حقیقتوں کو نظر انداز کرکے ملک کی چند مساجدپر قبضہ کی کوشش کررہے ہیں، ماضی میں بابری مسجد کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ ہمارے دلوں کا داغ ہے، اور اب گیان واپی مسجد سمیت دوسری کئی مساجد کو بلا وجہ متنازعہ بنایا جارہا ہے اور میڈیا کے ذریعے پورے ملک میں غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے،  ۱۹۹۱ء میں عبادت گاہوں کے تحفظ کے سلسلے میں بنائے گئے قانون کو نظر انداز کرکے عدالتیں بھی ایسے فیصلے دے رہی ہیں جن سے قانون کی بالا دستی متاثر ہورہی ہے، پچھلے دنوں گیان واپی مسجد کے سلسلے میں نچلی عدالتوں کا جو رویہ سامنے آیا اور جس طرح بے بنیاد چیزوں کو اہمیت دے کر گیان واپی مسجد میں نماز روکنے کی کوشش کی گئی اس کی وجہ سے عدالتوں کے وقار پر اثر پڑا ہے، نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے انصاف پسند باشندوں کا بھی یہ احساس ہے کہ فرقہ پرست عناصر بلا وجہ گیان واپی مسجد کے معاملے کو طول دے رہے ہیں، اور اس کے ذریعے نفرت کا ماحول قائم کررہے ہیں۔

گیان واپی مسجد بنارس کی کئی سو سال پرانی مسجد ہے، بنارس یوپی کا مشہور ومعروف شہر ہے، اس شہر کو ”وارانسی“ اور ”کاشی“ بھی کہا جاتا ہے، گیان واپی مسجد جس جگہ قائم ہے اس محلے کا نام ”گیان واپی“ تھا، محلے کے نام سے مسجد بھی ”گیان واپی مسجد“ کہی جانے لگی، فرقہ پرست افراد کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ صاف ذہن کے غیر مسلموں کو بھی یہ بات باور کرائی جائے کہ مشہور مغلیہ تاج دار اورنگ زیب عالمگیر نے مندر توڑ کر اس مسجد کی تعمیر کی تھی، حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ ہے، تاریخی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسجد مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے زمانے میں قائم تھی، اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ اکبر کے پر پوتے تھے، جب یہ مسجد اورنگ زیب عالمگیر کے عہد حکومت کے بہت پہلے قائم تھی تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر کی جائے! اصل میں ایک سونچے سمجھے منصوبے کے تحت جھوٹی باتیں پھیلائی جارہی ہیں، اور اس بات کی کوشش ہورہی ہے کہ میڈیا کی طاقت کے ذریعے جھوٹ کو سچ قرار دیا جائے، ابھی چند دن پہلے گیان واپی مسجد کے سروے کے دوران مسجد کے حوض میں واقع فوارے کو ”شیو لنگ“ کا نام دے دیا گیا، حالانکہ مسجد کے آس پاس رہنے والے غیر مسلموں کا بھی یہ ماننا ہے کہ یہ ”شیو لنگ“ نہیں، فوارہ ہے، حیرت اس بات پر ہے کہ نچلی عدالت نے صرف ایک فریق کی بات سن کر فیصلہ دے دیا، اور مسجد میں صرف بیس افراد کے نماز پڑھنے کے احکامات صادر کیے! بعد ازاں سپریم کورٹ نے نمازیوں کے لیے تو اجازت دے دی، لیکن فوارے والے حصے کو بند رکھنے کا حکم صادر کردیا! یہ معاملہ ابھی کورٹ میں ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ اچھا فیصلہ سامنے آئے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ قانونی کارروائی پر نظر رکھے ہوئے ہے، اور گیان واپی مسجد کے سلسلے میں بورڈ کے لیگل سیل کی کئی میٹنگیں ہوچکی ہیں، البتہ مسلمانان ہند کا یہ احساس ہے کہ حکومتِ وقت کی ایسے نازک اور حساس معاملے میں خاموشی مجرمانہ فعل ہے، ہمارے ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے، جمہوری حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہر مذہب کے ماننے والوں کی رعایت کرے، ان کے مذہبی مقامات کی حفاظت کرے، اور دو گروہوں کے درمیان کوئی تنازعہ نہ پیدا ہونے دے۔مگر افسوس ہے کہ اس پورے معاملے میں حکومت نے خاموش رہنے کو ترجیح دی ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت وقت سے یہ کہتا ہے کہ وہ آگے بڑھے، اپنی خاموشی توڑے، اپنا فرض نباہے، ظلم کو ظلم قرار دے، ملک کی اتحاد اور سالمیت کی فضا کو برقرار رکھنے کی فکر کرے، اور فرقہ پرست عناصر کو ان کی نا معقول اور ناپسندیدہ حرکت سے باز رکھے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنا یہ موقف بھی ظاہر کیا ہے کہ حکومتِ ہند کی جانب سے  ۱۹۹۱ء میں عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون کی رو سے عدالتوں کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ کسی عبادت گاہ کے سلسلے میں اٹھنے والے نئے تنازعہ پر سماعت کرے، گیان واپی مسجد سمیت قطب مینار کی مسجد، متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد اور ایم پی کی کمال الدین مسجد کے سلسلے میں نچلی عدالتیں جس طرح مختلف درخواستوں کو قبول کررہی ہیں، یہ  ۱۹۹۱ء کے قانون کے خلاف ہے۔

 

محترم حضرات! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کے ذمہ داروں اور متولیان کی معلومات کے لیے  ۱۹۹۱ء میں بنائے گئے قانون کی تھوڑی سی تفصیل ذکر کردی جائے،  ۱۹۹۱ء میں مختلف عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے یہ قانون بنایا گیا تھا، جس میں یہ بات درج کی گئی ہے کہ پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو جس عبادت گاہ کی جو حیثیت تھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ کسی بھی گروہ کی طرف سے کسی بھی عبادت گاہ کے سلسلے میں تنازعہ کو روکا جاسکے، قانون بنانے والوں کے پیشِ نظر یہ بات تھی کہ اس قانون کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بر قرار رکھا جاسکے گا، اس وقت کے وزیر داخلہ نے دس ستمبر  ۱۹۹۱ء کو لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے اس قانون کے سلسلے میں یہ کہا تھا کہ” اس قانون کو ہم ہندوستان کی بھائی چارگی، امن ومحبت کی شاندار اور عظیم روایات کو فروغ دینے والے قانون کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، آزادی سے کچھ پہلے ملک میں امن وآشتی اور اتحاد ویک جہتی کی ہماری روایتوں کو نقصان پہنچا تھا، اسی کے پیشِ نظر موجودہ حالات میںہم نے ماضی کے زخموں کو مندمل کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن وآشتی کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے“

اس قانون کے سیکشن تھری میں یہ بات درج ہے کہ تمام مذہبی مقامات کو اسی حالت میں محفوظ رکھا جائے گا جیسے کہ وہ پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو تھے، قانون کے اسی حصے میں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے کہ کسی بھی مذہبی فرقے کی عبادت گاہ میں کلی یا جزوی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ہے، یہاں تک کہ قانون میں یہ بات بھی ہے کہ اگر کسی مذہبی مقام کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے کہ ماضی میں یہاں کوئی دوسرا مذہبی مقام تھا جس کو تباہ کرکے دوسری شکل دی گئی ہے، تب بھی اس کی موجودہ شکل کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے، اسی قانون میں یہ بات بھی ہے کہ پندرہ اگست ۱۹۴۷ء میں جو مذہبی مقام جس طرح تھا اگر اس کی حیثیت کی تبدیلی کے سلسلے میں کسی بھی عدالت میں کوئی مقدمہ یا قانونی کارروائی جاری ہو تو اس قانون کی رو سے اسے ختم کردیا جائے گا، اور کوئی نیا مقدمہ یا قانونی کارروائی شروع نہیں کی جائے گی، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قانون بہت سونچ سمجھ کر اور ملک کے وسیع تر مفادات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا اور اس کی وجہ سے بہت سارے تنازعے دب گئے، مگر ابھی جو صورتِ حال گیان واپی مسجد سمیت ملک کے مختلف حصوں کی کئی مساجد کے بارے میں سامنے آرہی ہے اس سے مسلمانوں کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے، اور ملک کے انصاف پسند باشندوںکو بھی یہ محسوس ہورہا ہے کہ ۱۹۹۱ء میں ملک کے وسیع تر مفادات کے پیش نظر بنانے گئے قانون کو نظر انداز کرکے لا قانونیت کا راستہ اپنایا جارہا ہے، ہمارا صاف صاف یہ کہنا ہے کہ ملک اسی وقت ترقی کرسکتا ہے جب کہ یہاں بسنے والوں کا آپس میں تال میل ہو، ایک دوسرے کے مذہبی احساسات اور جذبات کا پاس ولحاظ رکھا جائے، نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیا جائے، اور اس بات کی کوشش ہو کہ دستور میں دی گئی آزادی کے مطابق ہر شخص اپنے مذہب، تہذیب اور زبان کے اختیار کرنے میں آزاد اور خود مختار رہے۔

 

محترم مصلیان کرام! مختلف مساجد کے سلسلے میں ملک میں جو مذموم کوششیں ہورہی ہیں اور مسجدوں کی آڑ لے کر جس طرح نفرت پھیلائی جارہی ہے، اس کے علاوہ مختلف تدبیروں کے ذریعے مسلمانوں کو جس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے،ایسے مشکل حالات میں ملک کے تمام مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمت اور حکمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں، تاریخ بتاتی ہے کہ جب کبھی اس ملت پر حالات آئے ہیں، ملت کے افراد نے مضبوطی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا ہے، حالات ہمارے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں، قرآن پاک میں ہمیں اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ ایمان والوں کی آزمائش کی جائے گی، مختلف مرحلوں میں ان کا امتحان لیا جائے گا، جان ومال کی کمی کے ذریعے ان کے یقین کی قوت کو پرکھا جائے گا، ارشاد ربانی ہے: ”وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ“ ،( بقرہ: ۱۵۵) (اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنادیجیے)،اسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد ہے کہ ”لَتُبْلَوُنَّ فِىٓ أَمْوٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوٓاْ أَذًى كَثِيرًا  وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ“ ،(آل عمران: ۱۸۶) (مسلمانو!) تمہیں اپنے مال ودولت اور جانوں کے معاملے میں (اور) آزمایا جائے گا، اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ۔ اور اگر تم نے صبر اور تقویٰ سے کام لیا تو یقینا یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیار کرنے ہیں )، مشکل حالات میں قرآن پاک ہمیں صبر اور استقامت کی تعلیم دیتا ہے، صبر کا مطلب ہے: ”مناسب تدبیر اختیار کرتے ہوئے اپنے مشن پرکاربند رہنا اور اللہ تعالی کے وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار کرنا“، استقامت کہتےہیں: ”اللہ تعالی کے حکموں پر جم جانا اور ایمان کے تقاضوں کو ہمیشہ پورا کرتے رہنا“، صبر اور استقامت کے علاوہ دشمنوں اورحریفوں سے  مقابلےکے لیےایک اور نسخہ بتایا گیا ہے، اور وہ ”تقوی“ ہے، یعنی اپنے دل میں اللہ تعالی کا ڈر اور خوف پیدا کرنا، جب ہم اپنے دل میں اللہ تعالی کا خوف رکھیں گے تو بہت سے دوسرے خوف اور ڈر ہمارے دل سے نکل جائیں گے، اور مشکل اور نازک حالات میں بھی ہماری زبان سے وہی بات نکلے گی جو حق اور سچ ہو، قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـئًا“ (آل عمران: ۱۲۰)(اور اگر تم صبر کروگے اور تقوی کے راستے پر چلو گے تو ان کی تدبیر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔)، قرآن پاک کی ہدایتوں کے پیشِ نظر ملک کے تمام مسلمانوں سے یہ بات عرض ہے کہ ان مشکل حالات میں صبر وتقوی اور استقلال واستقامت اختیار کریں، اللہ تعالی کے وعدوں پر یقین رکھیں، مساجد کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ کمر بستہ اور تیار رہیں، اور جب جیسی ضرورت پیش آئے اس کے مطابق مسجدوں کی حفاظت وخدمت اور اللہ تعالی کے دین کی مدد ونصرت کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں، جب ہم اپنی ذمہ داری کو پورے طور پر نبھائیں گے تو اللہ تعالی بھی اپنے وعدوں کو پورا کرے گا، اور مصیبت وآلام کے وقت ہمیں راحت وآرام عطا فرمائے گا، وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

 

دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانانِ ہند کی حفاظت فرمائے، مساجد، مدارس اور دینی وملی جماعتوں اور تنظیموں کے سلسلے میں اہلِ ایمان کو اپنی ذمہ داری اخلاص اور اہتمام کے ساتھ پوری کرنے کی توفیق دے، اور مشکل وقت میں ہماری مدد فرمائے۔ آمین یار ب العالمین!

وآخر دعوانا اَنِ الحمدُ للہ رَبِّ العالمین

 

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button