جنرل نیوز

نہ کٹ مروں میں شان مصطفی کی حرمت پر_ خداشاہدہے _ کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

 

رشحات قلم

عبدالقیوم شاکر القاسمی

جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء

ضلع نظام آباد تلنگانہ

9505057866

 

 

گذشتہ ایک عشرہ دس دن سے مستقل واٹس ایپ فیس بوک انسٹاگرام ٹیوٹرودیگر سوشل میڈیا اور اخبارات کے توسط سے

مسلمانان ہند خصوصا اور پوری دنیا کے مسلمان عموما بلکہ سیاسی سطح سے لیکر عوامی سطح تک ہر کسی کی زبان پر ایک ہی نعرہ لگاہوا ہیکہ بی جے پی کی ترجمان خاتون جس کانام لکھ کر یااپنی زبان سے اس کا نام لے کر اپنے قلم وزبان کو داغدار کرنا نہیں چاہتا ہوں جس نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کہ شان اقدس میں جس دریدہ دہنی اور چھوٹامنہ بٰڑی بات والے محاورہ کے مصداق بن کر زبان درازی کی ہے اس کو خاطر خواہ سزادی جاے ۔۔۔اس نعرہ میں اپنے آپ کو شامل کرتے ہوےمیں کہوں گا اس بدزبان عورت کی خواہ کتنی ہی مذمت کی جاے اور چاہے کتنی ہی سزا دی جاے وہ حق نبی کے اعتبار سے ذرہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتی ہے

میں اپنے لئے اوراپنی آخرت کو سنوارنے کے لیےء بس اتنا کہوں توبے جا نہ ہوگا

کہ

ہم ہر قسم کے ظلم وستم کو سہ جائیں گے ہر طرح کے مصائب وشدائد کو برداشت کرلیں گے کوی ہم سے اپنی جان مانگے تو دےدیں گے مال چھینے تو بھی آمنا صدقنا کہ جائیں گے عزت چاہے تو بھی قربان کردیں گے

*لیکن خبردار*

نبی کا جاہ وجلال آپ کی شان بان آپ کی عظمت وتقدس آپ کے اخلاق وکردارآپ کی چال ڈھال اور ناموس رسالت پر کوی کیچڑ اچھالے تو۔۔۔۔۔۔۔

پھر۔۔ببانگ دہل اعلان کردیں گے کہ ۔۔۔۔

نہ کٹ مروں میں جب تک شان مصطفی کی حرمت پر ۔۔۔

خداشاہد ہے کامل میرا ایماں ہونہیں سکتا ۔۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی ہم ایمان والوں کے نزدیک ناقابل معافی ایک سنگین جرم ہے اورہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک کا قانون بھی اس حرکت کو جرم مانے گا اور سزا سناے گا اور سنانا بھی چاہیے چونکہ یہاں ہر مذہب والے کو اپنی مذہبی شعار وشخصیات کے ساتھ رہنے اور زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے

لیکن قربان جائیں اسلام اورتعلیمات اسلام پر اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر کہ جنہوں نے واضح لفظوں میں خود اپنی زندگی کے انتہای ظلم وجور والے حالات میں اور اسی طرح مرفہ الحالی وغلبہ اسلام کے زمانہ میں بھی بتلادیا کہ

ہمارامذہب تو یہی کہتاہیکہ کسی بھی قوم کے پیشواؤں وراہنماؤں کے بارہ میں براکہنا یا ان کی عزت وتقدس پر حملہ کرنا یا ان کے کسی عمل وکردارپر حملہ کرنا درست بات نہیں ہیں

یہ اسی نبی کی تعلیمات ہیں جن کی پاکبازی اورحقانیت وصداقت کی گذشتہ چودہ سو سال سے تمام ہی مذاہب کی مقدس کتابوں اور مقدس شخصیات نے گواہی دی اور تاقیام قیامت آپ کی عفت وعصمت اور پاکدامنی وپاکبازی کی مثال دیتے رہیں گے

اگر فرقہ پرستی وتعصب کی نظروں کو انصاف کے پانی سے دھوکر دیکھا جاے اور غور کیاجاے تو یہ حقیقت ماننا اور اقرارکرنا پڑے گا کہ

آے جہاں میں بہت پاک مکرم بن کر

آیا نہ کوی مگر رحمت عالم بن کر

 

یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ حضورعلیہ السلام کو صرف مسلمانوں نے اپنانبی اور پیشوا نہیں مانا بلکہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر اگر دیکھا جاے تو دنیا کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے بھی آپ کو اپنا پیشوا اور آئیڈیل مانا ہے نہ صرف مانا بلکہ آپ کی بہترین تعلیمات کو اپنایا اورترقی کی راہ پر گامزن ہوے جس کا بزبان خود انہوں نےہزار مجبوریوں اور لاکھ پابندیوں کے باوجود اقرار کیا اور تاریخ نے ان کے اس جملے کو نقل کرکے رہتی دنیا تک کے انسانوں اور اعداء دین واسلام کو بتلادیا

کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے نبی نہیں ہیں بلکہ ہمارے بھی بڑے اور مقتدا ہیں اور نبوت محمدی پرصرف مسلمانوں کی اجارہ داری نہیں

لیکن برا ہو فرقہ پرستوں اور متعصبانہ سلوک اپنانے والوں کا جنہوں نے منظم طورپر باضابطہ نشانہ بناکر وقۃ فوقۃ ایسی حرکات کرتے رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں کبھی مساجدومنادر کو لے کرفرقہ واریت تو کبھی ہندومسلم کو لے کر فساد مچانے کبھی حجاب اوربرقعہ کو لے کر شورمچایا جاتا ہے تو کبھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس وپاکیزہ شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم سعی کی جاتی ہے اورمسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا جاتا ہے اسی طرح بہانہ بہانہ سے

اس ملک کی پر امن فضاء کومکدر کرنے کی ناپاک کوششیں اورسازشیں ہوتی ہیں

حالانکہ

اسلام اورمسلمانوں نے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برقراررکھنے میں روزاول سے کوی کسر باقی نہ چھوڑا انگریزوں سے جہاد کرکے ملک کو آزاد کرایا اپنا خون بہایا جانوں کا نذرانہ پیش کیا سولی کے تختوں کو چوما اور اپناحق اداکیا

ان سب کے باوجود آج پھر بھی ان کو اوران کے مذہب کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے ان کی مذہبی عبادات وکتابوں اسی طرح مذہبی شخصیات کو کیوں ٹارگیٹ کیا جاتا ہے

یہ نات سمجھ سے بالاتر ہے اس حوالہ سے سیاسی حکمرانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے ملک کے امن وامان کی برقراری کے لےء کوی مضبوط لائحہ عمل تیارکرنے کی ضرورت ہے خاطیوں اور گستاخی کرنے والوں کوخاطر خواہ سزا دینا چاہیے تاکہ پھر کبھی اس طرح کی حرکت نہ کرنے پاے

اللہ پاک اہل ایمان کو توفیق اتباع واطاعت نصیب فرماے اور دیگر اقوام عالم کو ہدایت سے سرفراز فرماے

آمین بجاہ سید المرسلین

متعلقہ خبریں

Back to top button