جنرل نیوز

سونگیر فساد تین مسلم نوجوانوں کی اورنگ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کی -جمعیۃ علماء کی قانونی امداد


ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے آج سونگیر فساد معاملہ میں گرفتار تین مسلم نوجوانوں کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے جن کے نام ارشد خان فرید خان قریشی، وسیم خان محسن خان، شیرو خان عباس خان ہیں۔
۲۲؍مارچ کو ایڈیشنل سیشن جج دھولیہ اے ڈی شیر ساگر نے ملزمین کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی تھی جس کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے روبرو ضمانت عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میںآئی جس کے دوران جسٹس ایم ایس پاٹل نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد ملزمین کو مشروط ضمانت پررہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ پون پوار نے بحث کی۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں خاندیش کے حساس علاقہ دھولیہ سے ۲۰؍کلو میٹر کی دوری پر واقع سونگیر نامی گاؤں میں اکثریتی فرقہ نے معمولی سی بات پر مسجد پر حملہ کر کے مسجد اور اس کے باہرمسلمانوں کی کھڑی پیک اپ اور ٹھیلہ گاڑی میں توڑ پھوڑ مچائی تھی ،اور کافی نقصان پہونچایا تھا جس کے دوران مسلم نوجوانوں نے بھی مزاہمت کی تھی جس پر ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی ۔
واقع کی اطلاع موصول ہوتے ہی مقامی پولس عملہ نے دو نوں فرقوں کے لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور ان پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات اور بامبے پولس ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا ۔
ایڈوکیٹ اشفاق شیخ نے نچلی عدالت میں ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لیئے بحث کی تھی لیکن چارج شیٹ داخل نہیں کیئے جانے کی وجہ سے ایڈیشنل سیشن عدالت نے ملزمین کی ضمانت عرضداشت خارج کردی تھی۔
ملزمین کی رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء دھولیہ کی قانونی کمیٹی کے ارکان صوفی مشتاق، مصطفی پپو ملا، محمود ربانی، حاجی عبدالسلام ماسٹر اور ایڈوکیٹ اشفاق شیخ نے کوشش کی ہے ۔
آج کی عدالتی کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہو ئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کی گرفتاری کے بعد سے ہی یہ کوشش کی جارہی تھی کہ جلداز جلد ملزمین کو ضمانت پر رہاکرایا جائے اس کے لیئے پہلے سیشن عدالت سے رجوع کیا گیا جہاں ضمانت مسترد ہونے کے بعد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج الحمداللہ فیصلہ ملزمین کے حق میں آیا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ فساد کے دوران مسجد کو شرپسندوں نے شدید نقصان پہنچایا تھا جس کے بعدجمعیۃ علماء نے جامع مسجد میں سی سی ٹی کیمرہ لگانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس تعلق سے مزید کارروائی انجام دی گئی اور اطراف دیگر مسجد میں بھی کیمرے نصب کرادیئے گئے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button