جنرل نیوز

دیارِ حافظ میں پدم شری ہریکلا ہاجبّا کا پرتپاک استقبال

آج بروز سنیچر۷۲ نومبر۱۲۰۲ء کودیارحافظ شکاری پور میں ہریکلا ہاجبّا کی آمد کے موقع سے ایک بزم منعقد کی گئی۔
یاد رہے کہ ریاست کرناٹک کے منگلور شہر کے دیہی علاقے کے رہنے والے نہایت سادہ، محنتی اور تعلیم و تدریس سے محبت رکھنے والے پاک طبیعت انسان ہریکلا ہاجبّا آج کل سبھوں کی توجہ، محبت اور عقیدت کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۰۲۰۲ء؁ کے لیے پدم شری کا پروقار اعزاز صدر ہند کے ہاتھوں دیا گیا۔ ہریکلا ہاجبّا کے رنگ روپ اور وضع قطع کو دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ یہ پدم شری اعزاز یافتہ ہیں۔ ان کی سادگی ان کی طاقت اور ان کی پہچان ہے۔ وہ خود جتنے سادہ اور مخلص انسان ہیں ان کا دل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔
ہاریکلا ہاجبّا صاحب کو جب معلوم ہوا کہ شہر شکاری پور کے ایک ہر دل عزیز اور مایہ ناز بچوں کے ادیب اور شاعر کو بھی ۰۲۰۲ء؁ کے لیے بال ساہتیہ پرسکار دیا گیا ہے تو وہ بہ نفس نفیس ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو مبارکباد دینے کے لیے شکاری پور تشریف لائے، ظاہر ہے کہ ان کی آمد غیر متوقع اور انکی محبتوں کی انتہاکی دلیل تھی۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے نہایت پرتپاک انداز میں ان کا خیر مقدم کیا، ان کی مبارکباد کو سب سے قیمتی مبارکباد قرار دیا اور اپنے ہاتھوں سے پدم شری ملنے پر ہریکلا ہاجبّا صاحب کا اعزاز کیا۔ اس موقع سے مدنی بینک کے رکن جناب حنیف صاحب، کنڑا صحافتی کمیٹی کے ضلعی صدر جناب ہچرایپّا صاحب، گلشن زبیدہ کے نائب سرپرست جناب انیس الرّحمن صاحب، سوپروائزر انجینئر محمد شعیب صاحب، محمد ناصر صاحب، محمد فاروق صاحب، جناب محمد رفیق صاحب، محمد نعمان صاحب اور محمد اشرف صاحب کے علاوہ بھی کئی افراد موجود تھے۔
ہریکلا ہاجبّا صاحب نے کہا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو ۰۲۰۲ء؁ کے لیے اردو ادب اطفال کا باوقار ساہتیہ ایوارڈ ملا ہے تو میں اپنے آپ کو روک نہیں سکا اور آپ کو مبارکباد دینے کے لیے حاضر ہوگیا۔
ہاجبّا صاحب نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں ایک معمولی انسان ہوں، نارنگی بیچتا ہوں، لوگ مجھے نارنگی والا کہتے ہیں۔ میں نے اپنی معمولی سی آمدنی میں ہمت کی کہ بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے ایک اسکول قائم کروں لہٰذا میں نے اللہ کا نام لے کر اپنا کام شروع کردیا۔ لوگوں نے میرے جذبے کو سمجھا اور مجھے اپنی محبتوں سے نوازا۔ پھر انہوں نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ مہان انسان ہیں، پڑھے لکھے انسان اور شاعر ہیں۔ آپ کو مبارکباد دینا اور آپ سے ملاقات کرنا میرے لیے سعادت کی بات ہے۔
ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی، ہاجبّا صاحب کی سادگی اور خلوص سے بہت متأثر ہوئے، انہوں نے ہاجبّا صاحب کو سینے سے لگایا ان کی محنتوں اور کام کرنے کے جذبوں کو سراہا۔ اور خاکہ نگاری کے انداز میں کہا؛ کیا کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ ایک شکن آلودہ مالیدہ شرٹ پہنا ہوا اور سفیدی کی چمک سے محروم لنگی میں ملبوس یہ عظیم انسان عزم و ارادے کی چلتی پھرتی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ توجہ سے دیکھیں ہاجبّا صاحب کا دل بچوں کی طرح معصوم پاکیزہ اور بے ریا ہے۔ ان کی گفتگو بھی بچوں کی طرح معصوم دل میں اترجانے والی سادگی کی خوبیوں سے آسودہ ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے تعلیم ہر بچوں کا بنیادی حق ہے۔ اور تعلیم کو گھر گھر پہونچانا ہے جیسے مشن کو طاقت بخشی۔ سچ ہے کہ انسان بڑی بڑی ڈگریوں سے نہیں اپنے اچھے اخلاق، اعمال اور خدمت کرنے کے سچے جذبے سے بڑا اور عظیم بنتا ہے۔
ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ اسے حکومت کی کامیابی میں شمار کیا جائے گا کہ اس نے کام کے لوگوں کو تلاش کرکے پدم شری جیسے معزز ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ ہاریکلا ہاجبّا صاحب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ انہیں نام سے پکارنے کے بجائے احتراماً اکشراسنتا کے نام سے پکارتے ہیں۔ ایسی محترم شخصیت کا مجھے مبارکباد دینے کے لیے یہاں تک آنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ سچ پوچھیے تو ہاجبّا صاحب کا اعزاز ان تمام گمنام خدمت گاروں اور مسلمانوں کا اعزاز ہے جو سب کچھ بھول کر دن رات ملک کی تعلیمی ترقی کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔
جناب ہچرایپّا صاحب نے کہا کہ؛ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ دوقومی ایوارڈ یافتہ افراد ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کے لیے یہاں موجود ہیں، یہ اس سے بھی بڑی بات ہے کہ ایک پدم شری جناب ہاجبّا صاحب ہمارے قومی ایوارڈ یافتہ شاعر حافظؔ کرناٹکی کو مبارکباد دینے کے لیے یہاں تشریف لائے ہیں۔ ہچرایپّا صاحب نے ہاجبّا صاحب کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم سبھی لوگ آپ کے بے حد شکر گذار ہیں کہ آپ نے یہاں آکر نہ صرف ڈاکٹر حافظ ؔکرناٹکی کی عزت میں اضافہ کیا ہے بلکہ ہمارے شہر کی عزت میں اضافہ کیا ہے۔ اور حافظؔ کرناٹکی اور خود اپنے ایوارڈ کو ہمارے لیے تاریخی یادگار بنادیاہے۔
جناب محمد حنیف صاحب رکن مدنی بینک شکاری پور نے باالخصوص ماسٹر محمد رفیق صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ ہم سب آپ کے ممنون ہیں کہ آپ پدم شری ہریکلا ہاجبّا صاحب کو اپنے ساتھ لے کر یہاں آئے۔ اور دو قومی ایوارڈ یافتہ محترم ہستیوں کو آپس میں ملا کر ہماری خوشی اور انبساط میں اضافہ کیا۔

جناب ہاجبّا صاحب جس دن پدم شری ایوارڈ لینے صدر جمہوریہ کے سامنے حاضر ہوئے اس دن اپنی سادگی کی وجہ سے ساری دنیا کی میڈیا پر چھا گئے، اور میڈیاکے ذریعے لوگوں کے دلوں میں بس گئے۔ یہ ان کی سادگی تھی کہ وہ موقع کی نزاکت کو سمجھے بغیر بلاتکلف اپنے تعلیمی ادارے کی ترقی کے لیے اپنی مانگ پیش کردی۔ اپنے مقصد سے اتنا خلوص کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
ہریکلا ہاجبّا صاحب نے اپنے ہاتھوں سے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے گلے میں مالا ڈالی اور اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔ ان کے نام کی وجہ سے شاید بیشتر لوگوں کو ان کے مذہب کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ ہونا بھی نہیں چاہیے، کہ انسان کی اصل پہچان تو انسانیت ہوتی ہے۔ یہ پروقار مختصر نشست جناب انیس الرّحمن صاحب کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button