جنرل نیوز

یوم جمہوریہ کی عظمت اور مقام تفکر!!

مستفیض الرحمان قاسمی چمپارنی
 واٹس ایپ نمبر: 78952 78219
    لمبے عرصے تک ہم گوروں سے بر سر پیکار رہے پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برادران وطن بھی ساتھ آتے گئے اور قافلہ بڑھتا گیا۔
   پھر کیا ہونا تھا جب انگریزوں نے ہمارے اتفاق کو دیکھا تو انہوں نے  بہ خوبی سمجھ لیا کہ اب ہمیں بھارت کو چھوڑ نا ہوگا بصورت دیگر اگر رہنا اور راج کرنا ہے تو ان ہندوستانیوں کے مابین دھرم اور مذہب کی بنیاد پر پھوٹ ڈالنا ہوگا۔
بعد ازاں انگریزوں نے پھوٹ ڈالنے کی بہت کوششیں کیں، کچھ اپنے لوگ اس دام فریب میں پھنس کر عام لوگوں کو برانگیختہ کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ہاتھ کیا لگا بدنام غدار، ایمان فروش اور گوروں کا چاپلوس اور بھی اسی طرح کے بہت سے الفاظ جمیلہ جو ان جیسے لوگوں کے اوصاف قبیحہ کو واضح اور ظاہر کرتے ہیں۔
جب انگریزوں نے یہ اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہ فریب کے جال میں پڑنے والے نہیں ہیں تو ایک دوسرا شوشہ چھوڑا کہ دو مختلف قومیں ایک ساتھ گذر بسر نہیں کر سکتی ہیں لہذا اگر ہم چھوڑ کر جاتے ہیں تو یہاں خون خرابا ہوگا اور سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔
    یہ وہ دام فریب تھا جس کی گرفت میں ایک بڑی تعداد جا پھنس گئی  اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی گردن پر ذبح کی چھڑی پھیر دی گئی اور دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا، جس کا خمیازہ آج بھی ہندوستانی مسلمان بھگت رہا ہے۔
جس دن ملک تقسیم ہوا اسی دن ہمارا ملک انگریزوں کے ناپاک وجود سے پاک بھی ہوا،  یعنی ملک کو آزادی اور استقلال حاصل ہوا۔
     اس کے بعد ملک کے ہر قوم کے چوٹی کے قائدین اور نمائندوں نے مل بیٹھ کر ایک جمہوری دستور ترتیب دی، جسے دستو ہند کہا جاتا ہے اور اس” دستور” کو باتفاق رائے 26جنوری 1950ء کو نافذ کیا گیا۔
اس دستور کی خصوصیتوں میں سے چند یہ ہیں کہ اس دستور میں کسی بھی قوم اور کمیونٹی کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ روا نہیں رکھا گیا ہے ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہے، مساوات کا حق اور بھی بہت سی خصوصیات ہیں اور یہ دستور ہند دنیا کی سب سے بڑی جمہوری دستور ہے۔
     اب سوال اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنی ساری خصوصیات کا حامل دستور ہوتے ہوئے ان پچھتر برسوں میں نفرت پر مبنی سیاست، بھید بھاؤ ، مذہبی شدت پسندی، مذہب کی بنیاد پر ماب لنچنگ، کھانے پینے پر سیاست،  عبادت گاہوں پر حملے، خاص کمیونٹی کی عورتوں کو فروخت کرنے جیسا گھناؤنا فعل، ایک کمیونٹی کو موت کے گھاٹ اتارنے کا علی الاعلان، عہد و پیمان اور  مہاتما گاندھی کے قتل سے لیکر دہلی فساد تک ان سب سے ملک کا دامن سیاہ کیوں ہوتا چلا گیا؟ اور مستقبل میں اس سے نجات کیسے مل سکتی ہے ؟

متعلقہ خبریں

Back to top button