ایجوکیشن

اُردو یونیورسٹی اور ٹمریز میں یادداشت مفاہمت پر دستخط

اُردو یونیورسٹی اور ٹمریز میں یادداشت مفاہمت

تحقیق و تربیت کے ذریعہ معیار تعلیم میں بہتری مقصد۔ پروفیسر عین الحسن و دیگر کے خطاب

حیدرآباد، 16 دسمبر (پریس نوٹ)مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے آج تلنگانہ مائناریٹیز ریسڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی (ٹمریز)، حیدرآباد کے ساتھ ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کیے ہیں تاکہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔

 

پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر ، مانو نے اپنے صدارتی خطاب میں اس یادداشت کو دونوں اداروں کی مشترکہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک دستاویز قرار دیا جو کہ نئی تعلیمی پالیسی NEP-2020 میں صراحت کردہ جامع تعلیم کا حصہ ہوگی۔

 

پروفیسر صدیقی محمد محمود، ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ و رجسٹرار انچارج اور جناب بی شفیع اللہ، آئی ایف ایس، سکریٹری ٹمریز نے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ اور دوسروں کی موجودگی میں یادداشت پر دستخط کیے۔

 

ٹمریز پرائمری اسکول سے ہائیر سیکنڈری سطح تک معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے تلنگانہ ریاست میں 204 رہائشی اسکول چلاتا ہے۔ یہ اشتراک ٹمریز اور تلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا اور معیار تعلیم میں بہتری کے مختلف عوامل سے متعلق تحقیق کا موقع فراہم کرے گا۔ اس سے مانو اور ٹمریز کو اساتذہ کے تربیتی پروگرام منعقد کرنے میں بھی مدد ملے گی۔مانو مختلف شعبوں میں تحقیق کرے گا جیسے ٹمریز میں تدریسی طریقہ ¿ کار، تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں ٹمریز انتظامیہ کا کردار، طلبہ کا سماجی و اقتصادی پس منظر، وغیرہ، مزید بہتری کی سفارشات کے لیے اقدامات کے نتائج کا تجزیہ بھی کرے گا۔ ٹمریز یادداشت مفاہمت کے تحت تحقیق کے لیے درکار معلومات فراہم کرے گا۔ معاہدہ کی تین سال کے بعد دوبارہ تجدید کی جاسکتی ہے۔

 

پروفیسر عین الحسن نے تعاون و اشتراک کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے تلنگانہ میں تعلیمی اداروں کے وسیع نیٹ ورک کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اشتراک کے دور میں جی رہے ہیں۔ تعاون سے ترقی اور فروغ حاصل ہوتا ہے۔ پروفیسر عین الحسن نے مزید کہا کہ دوسرے اداروں کی ضروریات کو کیسے پورا کیا جائے یہ بھی اہم ہے، ہم دستیاب مواقع سے بہتر سے بہتر استفادہ کریں گے۔ مفاہمت کا مقصد دونوں اداروں کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔

 

جناب بی شفیع اللہ نے اپنے خطاب میں ٹمریز کے قیام کو حکومت تلنگانہ کا ایک منفرد اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعلیٰ جناب کے چندر شیکھر راو ¿ کی ذہنی اختراع ہے۔ ریاست تلنگانہ اس پہل کے ذریعہ دیگر تمام ریاستوں کے لیے ایک رول ماڈل بن رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اردو زبان کا تحفظ ٹمریز کے مقاصد میں شامل ہے۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود نے یادداشت مفاہمت کو دونوں اداروں کے لیے باعث فخر اور ایک خواب کی تکمیل قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تعلیمی نظام کی بنیاد اسکولوں میں رکھی جاتی ہے۔ مانو کا شعبہ ¿ تعلیم و تربیت اور مرکز برائے پیشہ ورانہ فروغ اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم، ٹمریز کے اساتذہ کی صلاحیتیوں میں اضافہ کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ پروفیسر سنیم فاطمہ، ڈین تعلیمات، مانو، جناب ایم اے لطیف عطیر، اکیڈمک ہیڈ، ٹمریز نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں پروفیسر محمد مشاہد، صدر شعبہ ¿ تعلیم و تربیت نے خیرمقدم کیا۔ ڈاکٹر اشونی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، تعلیم، مانو نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر وقار النساء، ایسوسی ایٹ پروفیسرتعلیم، مانو نے کارروائی چلائی۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر امان عبید، اسوسی ایٹ پروفیسر نظامت فاصلاتی تعلیم کی قرا ت کلام پاک سے ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button