تعلیم نوبالغان پروگرام‘ دینی مدارس کے اسلامی مزاج سے ہم

اردو یونیورسٹی کی زیر نگرانی پٹنہ میں حکومت بہار کے تعاون سے پرنسپلس کی تربیت : محترمہ سفینہ نور کی مخاطبت

حیدرآباد، 5 اگست (پریس نوٹ)بہار کے دینی مدارس میں تعلیم نوبالغان (اے ای پی) کے منفرد پروگرام کے تحت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے زیر نگرانی 950 پرنسپلس کا 5 روزہ تربیتی پروگرام آج مظہر الحق آڈیٹوریم ‘ حج بھون‘ پٹنہ میں کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ پروگرام میں بہار کے تمام 30 اضلاع سے مدارس کے سربراہوں نے شرکت کی۔محترمہ سفینہ نور‘سکریٹری‘ محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود‘ حکومت بہار نے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 75 فیصد لڑکیاں مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہیں اس پروگرام میں خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ محکمہ اقلیتی فلاح اس پروگرام کے لیے پوری طرح سے پُرعزم ہے۔محترمہ نور‘ تربیتی پروگرام میں مسلسل متحرک و فعال طور پر شریک رہیں اور پروگرام کے بہتر نفاذ کے لیے صدر مدرسین کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ محترمہ سفینہ نے مزید کہا کہ تعلیم نو بالغان پروگرام حکومتِ بہار کا ایک پسندیدہ پروگرام ہے جو کہ مدارس کی اسلامی فطرت کے مطابق ہے تاکہ طلباءاور اساتذہ کے اندرعصر حاضر کی بہتر تفہیم پیدا کی جا سکے۔
اقوام متحدہ آبادی فنڈ کے ذریعہ تعلیم نوبالغان پراجیکٹ کا بہار کے منتخب اضلاع میں آغاز کیا گیا تھا۔ بعد میں حکومت بہار کی جانب سے اسے پوری ریاست میں نافذ کیا گیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اس کا نصاب ترتیب دیا جبکہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے اس کے لیے تربیت کا انتظام کیا۔انتظامی امور کی ذمہ داری بہار مدرسہ بورڈ کو دی گئی ہے۔
پروفیسر محمد شاہد، پراجیکٹ ڈائرکٹر، مانو کے بموجب تربیتی پروگرام کے افتتاحی اجلاس میں وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد زماں خاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم نو بالغان وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک انوکھی پہل ہے ، جس کی مثال ملک کے کسی دوسرے حصے میں نہیں ملتی۔ تعلیم نوبالغان پروگرام کا اہم مقصد مدرسوں اور اسکولوں کے درمیان تعلیمی خلاءکو پُر کرنا ہے۔ اقوام متحدہ آبادی فنڈ بہار کے تکنیکی تعاون سے اسے تقریبا2500 امداد یافتہ مدارس میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے نافذ کیا جارہا ہے۔اس پروگرام کے تحت 50 مدرسہ ریسورس سینٹرز پورے بہار میں قائم کیے جارہے ہیں۔ یہ مدارس میں نوعمر طلبہ کو سازگار اور بہتر مواقع فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے تاکہ ان کی تخلیقی سوچ ، تنقیدی شعور اور دانشورانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جا سکے۔ پورے پروگرام کو مدارس کے ثقافتی و تہذیبی پس منظر اور اسلامی تناظر کا خیال کرتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ جس میں 7000 سے زائد مدرسوں کے اساتذہ کو نئی تدریسی حکمت عملی کی ٹریننگ دی جائے گی جس سے مدرسہ کے طلبہ میں خود اعتمادی ، مسئلے کے حل کی صلاحیت ،تنقیدی سوچ اور بہتر زندگی گزارنے کی فکر و صلاحیت جنم لے گی۔

افتتاحی پروگرام میں حکومت بہار کے ڈیولپمنٹ کمشنر جناب عامر سبحانی نے کہا کہ تعلیم نو بالغان پروگرام حکومت بہار کا ایک منفرد پروگرام ہے جو کہ مدارس کی اسلامی فطرت کے مطابق ہے تاکہ طلباءاور اساتذہ کے اندرعصر حاضر کی بہتر تفہیم پیدا کی جا سکے۔ جناب سبحانی نے یہ بھی کہا کہ ایسے پروگرام کے نتائج کو حاصل کرنے کے لیے شراکت داری بہت ضروری ہے۔ جس کے لیے تمام شراکت داروں کی خدمات قابل تحسین ہے۔
اس پروگرام میں محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر جناب فیضی اور مدرسہ بورڈ کے سکریٹری جناب سعید انصاری بھی موجود رہے۔یو این ایف پی اے سے ڈاکٹر ندیم نور نے بتایا کہ مانونے مدرسہ کے طلباءکے ساتھ تعلیم نوبالغان کے نفاذمیں اساتذہ کے سہولت کار کا کردار مسلسل ادا کیا۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر محمد شاہد نے کہا کہ انہیں اپنی ٹیم پر پورا اعتماد ہے اور اب یہ پروگرام صرف اساتذہ کی تربیت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ مدرسوں کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنا یا جاسکے گا۔ اس پروگرام میں ریسورس سنٹر مدرسوں کی ترقی کو ایک مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
پروفیسر محمدفیض احمد پروجیکٹ کوآرڈینیٹر اور پرنسپل مانو سی ٹی ای دربھنگہ نے بتایا کہ اب تک 1000 مدارس کے اساتذہ کو تربیت دی جا چکی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید 1000 کو تربیت دی جائے گی۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے مانو نے اب تک 100 ٹرینرز کا تربیت یافتہ کیڈر تیارکر لیا ہے۔ اس طرح بہار کے تمام اضلاع کے مدارس تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں مثالی کردار ادا کریں گے۔
اس پروگرام میں مانو کے فیکلٹی ممبر س اور اسسٹنٹ پروجیکٹ کوارڈنیٹرس ڈاکٹر فخرالدین علی احمد، ڈاکٹر شفاعت احمد ، ڈاکٹر محمد افروز عالم، جناب چاند انصاری، اور سونورجک ، کے علاوہ پروگرام منیجر فرمان خان، ریسرچ فیلو شفیق احمد ، عرفان خان وغیرہ نے انتظامی امور کو بحسن خوبی انجام دیا –