جنرل نیوز

والدین اپنے بچوں کی شادی میں تعویق نہ کریں:احمد حسین مظاہری پرولیا‎‎

انسان پر خالقِ ارض وسماء کے لاتحصیٰ انعامات اور ان گنت احسانات ہیں،اور احسانِ عظیم یہ ہے کہ ہمیں مسلمان بناکر شہنشاہ بطحا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا ؛اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ کے بتائے ہوئے احکامات پر کاربند رہیں۔
شادی ہر انسان کی ضرورت ہے؛اسی لیے ہر قوم و مذہب میں شادی کا رواج ہے کیونکہ لڑکا-لڑکی عمر شادی میں پہنچتے ہیں تو ان میں شادی کے تقاضے خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔یادرکھیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف خود شادی کیے ہیں، بلکہ اپنی امت کو بھی شادی کی تحریص و ترغیب دی ہے؛اور مجرد رہنے کو ناپسند کیا ہے۔لیکن حیف در حیف!اب ہمارے معاشرے میں شادی میں تعویق ہوتی نظر آرہی ہے!والدین کی سوچ بنتی جارہی ہے کہ جب تک لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہوجائے ان کی شادی نہیں کرائیں گے!
یادرکھیں! عہد جدید میں عریانی اور فحاشی بذریعہ ٹی وی و اینڈرائیڈ موبائل ہر گھر میں داخل ہو چکی ہےجس کی پاداش میں نو عمر لڑکے اور لڑکیاں بلوغت کی عمر میں پہنچتے ہی ان کے جذبات اور خواہشات تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں۔ اگر ان کی بر وقت شادی نہ کی جائے تومعاشرے میں بہت خرابیاں پیدا ہو جائیں گی ایسی صورت حال میں نیز سماجی و معاشرتی برائیوں کے انسداد کے لیے بھی شادی میں جلدی بے حد ضروری ہے۔
 یہ بات بھی آپ کے گوش گزار کر دوں کہ ارتداد کی ایک وجہ شادی میں تاخیر ۔۔۔ملک میں ارتداد کی لہر سیلابی ریلے کی طرح روز بہ روز امڈی چلی آرہی ہے!
حدیث میں ہےجس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو باپ اس جرم میں شریک ہوگا اور گناہ گار ہوگا۔
رب جلیل میں دست بدعا ہوں حق جل مجدہ ہمیں صحیح زندگی گزارنے، احکامات پر عمل پیرا ہونے نیز پوری امت مسلمہ میں نکاح کو عام کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔(آمین)
Attachments area

متعلقہ خبریں

Back to top button