نیشنل

رانچی تشدد کے دوران فائرنگ میں دو افراد مارے گئے _ مغربی بنگال میں بھی پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہرہ کے دوران تشدد

رانچی _ پیغمبر اسلام رسول ﷲﷺ  کی شان میں گستاخی کے خلاف ملک بھر کی کئی ریاستوں میں جمعہ کو احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس میں پیغمبر اسلام کے ناشائستہ تبصروں پر ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تشدد کا واقعہ پیش آیا۔حکام نے بتایا کہ اس واقعہ میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم پولیس نے مرنے والوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

رانچی کے ہنومان مندر میں معمولی جھگڑے کے دوران پولیس نے ہوا میں گولیاں چلائیں ۔ لاٹھی چارج اور سڑکوں پر بیٹھنے والے مظاہرین کو بھگا دیا گیا۔ تاہم، حکام نے آج بتایا کہ جھڑپوں میں دو افراد مارے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔رانچی کے ایک اعلی پولیس عہدیدار نے بتایا کہ جھڑپوں میں 8 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔ جھڑپوں کے پیش نظر رانچی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ فی الحال ضلع میں حالات قابو میں ہیں اور شورش زدہ علاقوں میں سیکورٹی فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ اور 68 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے

دریں اثنا، مغربی بنگال کے ہاورہ میں ہفتہ کو بھی جھڑپیں ہاورہ کے پنچ بازار میں آج صبح مظاہرین نے احتجاج کیا۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا ۔ جس پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور مظاہرین کو منتشر کردیا۔ حکام نے کہا کہ وہ 15 جون تک علاقے میں تین سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگا رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button