چیف منسٹر چندرشیکھرراو ‘ مسلم تحفظات میں اضافہ کا مرکز سے مطالبہ کرنا بھول گئے !

حیدرآباد _ تلنگانہ کے چیف منسٹر چندرشیکھرراو نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے گریجن طبقہ کے تحفظات کو 6 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔اسی طرح انہوں نے مرکزی حکومت کو انتباہ دیا کہ اگر گریجن طبقہ کے تحفظات پر کوئی فیصلہ نہیں لیا جاتا ہے تو ریاست میں گریجن طبقہ کے ساتھ مل کر جدوجہد شروع کریں گے۔چیف منسٹر چندرشیکھرراو نے اس موقع پر مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد کردینے کا مرکز سے مطالبہ کرنا بھول گئے ۔انہوں نے مسلم تحفظات کا تذکرہ ہی نہیں کیا ۔البتہ گریجن تحفظات میں اضافہ سے متعلق اسمبلی میں منظور کردہ قرارداد کو منظوری  دینے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جب کہ اسمبلی میں مسلم تحفظات میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی قرار داد منظور کی گئی تھی انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست میں گریجن طبقہ کی آبادی 6 بڑھ کر 10 فیصد سے زائد ہوگئی ہے اسی طرح چیف منسٹر چندرشیکھرراو نے بی سی طبقہ کی علحدہ مردم شماری کرنے کا بھی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے چیف منسٹر نے مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوت ہونے والے 750 کسانوں کو فی کس 3 لاکھ معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا۔ساتھ ہی انہوں نے مرکزی حکومت سے ہر مرنے والے ہر کسان کے خاندان کو 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا