تلنگانہ

امیت شاہ کی تلنگانہ آمد پر رکن کونسل کویتا نے کی ٹوئیٹر پر سوالات کی بوچھاڑ

آسمان کو چھوتی مہنگائی، ملک میں بڑھ رہی بیروزگاری اور تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک پر کئے سوال

آسمان کو چھوتی مہنگائی، ملک میں بڑھ رہی بیروزگاری اور تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک پر کئے سوال

حیدرآباد،14،مئی ( پریس ریلیز) مرکزی وزیر امیت شاہ کی تلنگانہ آمد کے ساتھ ہی رکن قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے ٹوئیٹر پر سوالات کی بوچھاڑ کردی ۔ بی جے پی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ کئے جارہے امتیازی سلوک اور تمام جھوٹے وعدوں پر آج کویتا نے استفسار کیا کہ وہ تلنگانہ عوام کو بتائیں کہ مرکزی حکومت فینانس کمیشن گرانٹ کے تحت تین ہزار کروڑ روپئے اورپسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے 1350کروڑ روپئے کب ادا کریں گے ۔

اس کے علاوہ ریاست تلنگانہ کو 2247 کروڑ جی ایس ٹی کی واجب الادا رقم کب فراہم کریں گے ۔ اس کے علاوہ سابق رکن پارلیمان و رکن کونسل نے آسمان چھوتی مہنگائی، ملک میں ریکارڈ توڑ رہی بیروزگاری اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پر سوالات کئے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے پوچھا کہ کیوں ہمارا ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے مرکزی وزیر امیت شاہ کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کویہ بھی بتائیں کہ مرکزی حکومت تلنگانہ کو گزشتہ 8 سالوں میں ایک بھی آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، آئی آئی ایس ای آر، ٹریپل آئی ٹی، این آئی ڈی، میڈیکل کالج، نو ودیا اسکول منظور کرنے میں ناکام رہی ۔ کویتا نے مشن کاکتیہ اور مشن بھاگیرتا کے لئے نیتی آیوگ کے تحت 24 ہزار کروڑ کے فنڈس کی سفارش سے مرکزی حکومت کی لاعلمی پر سوال اٹھایا جس نے ہر گھر جل کی مرکزی حکومت کی باقار اسکیم کو متاثر کیا ۔ کویتا نے کرناٹک میں اپر بھدرآبپاشی اور کین بیتوا ندی کو جوڑنے کے پراجیکٹ کو قومی درجہ دینے اور تلنگانہ میں رنگاریڈی لفٹ ایری گیشن اسکیم اور کالیشورم پراجیکٹ سے انکار پر مرکز کا دوہرا معیار قرار دیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button