تلنگانہ

بنڈی سنجے کے خلاف تلنگانہ بھر میں مقدمات درج کروانے کانگریس قائد شیخ عبداللہ سہیل کا اعلان

حیدرآباد، 26 مئی ( پریس ریلیز) تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے پر مسلم کمیونٹی کے خلاف ‘انتہائی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز’ تقریر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس پارٹی نے  ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی  کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین شیخ عبداللہ سہیل نے آج ایک صحافتی بیان میں کہا کہ بنڈی سنجے نے اقلیتی برادری کو اکسانے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے واحد مقصد سے کریم نگر میں نفرت انگیز تقریر کی تھی۔ حالانکہ سنجے جیسے لوگوں کو، جن کا آئی کیو لیول صفر ہے اور تاریخ اور جغرافیہ کا کوئی علم نہیں ہے، کو نظر انداز کیا جانا چاہئے، لیکن ان کے اس  ریمارکس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے کیونکہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی شدت سے کوشش کر رہےہیں۔
 شیخ عبداللہ سہیل  نے یہ اعلان کیا کہ تلنگانہ کے تمام 33 اضلاع میں کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں بنڈی سنجے کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کریں۔
عبداللہ سہیل نے کہا کہ تلنگانہ بی جے پی کے سربراہ تلنگانہ میں اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ شروع میں انہوں نے 4 فیصد مسلم تحفظات اور پھر اردو زبان کو نشانہ بنایا۔ اب وہ تمام مساجد کی کھدائی کا مطالبہ کر کے مساجد کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے ان کی نفرت ایک سطح پر پہنچ گئی ہے حالانکہ ان کا مقصد سیاسی فائدے حاصل کرنا ہے۔ وہ انتہائی اشتعال انگیز تبصرے کر کے لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کی مایوس کن کوششیں کر رہے ہیں
کانگریس لیڈر نے کہا کہ تلنگانہ پولیس کو بنڈی سنجے کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے لیے ‘سو موٹو’ کا مقدمہ درج کرنا چاہیے تھا۔ تاہم، چونکہ ٹی آر ایس ، بی جے پی کی خفیہ اتحادی جماعت ہے، اس لیے ریاستی پولیس خاموش تماشائی بن کر کام کر رہی ہے اور کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی بی جے پی اور ٹی آر ایس کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے مشترکہ منصوبہ کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا، "ہم بنڈی سنجے کے خلاف باضابطہ شکایت شروع کریں گے۔ اگر پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کرتی ہے، تو ہم کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔
عبداللہ سہیل نے بنڈی سنجے کے ان الزامات کا بھی مذاق اڑایا کہ مسجدیں شیوام پر بنائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مندر کی زمین پر کوئی مسجد نہیں بنائی جا سکتی اور نہ ہی قبضہ شدہ زمین پر۔ اس لیے بنڈی سنجے کے الزامات ان  کے عجیب و غریب سونچ  کے سوا کچھ نہیں تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button